Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
222 - 691
میں بچھو اور سانپ تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ڈر ہوا کہیں کوئی موذی شے نکل کر رسول خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوتکلیف نہ پہنچائے انہوں نے اس پر اپنا قدم رکھ دیا، تواس سوراخ میں موجودسانپ نے آپ کے قدم پر ڈس لیا، آپ نے جنبش نہ کی کہ کہیں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آرام میں خلل واقع نہ ہوجائے مگر تکلیف کے سبب آنسو چھلک پڑے، دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اے ابو بکر!غم نہ کر،بے شک اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ا س بات سے اللہ تعالٰی نے سیدنا ابوبکررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دل پر سکون نازل کردیا تو یہ تھی ابوبکر کی ایک رات۔ اور دن وہ ہے جس میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے انتقال فرمایا اور کئی عرب قبائل مرتد ہوگئے تو اس موقع پر میرے منع کرنے کے باوجود حضر ت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کمال فہم و فراست اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے مرتد قبائل کے خلاف جہاد کرکے اس فتنے کو ہمیشہ کے لئے زمیں برد کردیا۔ ‘‘ا س کے بعد حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپر فضلیت دینے والوں کوایک تہدید آمیز(یعنی سخت الفاظ والا) خط لکھا جس میں انہیں آئندہ ایسا کرنے سے سختی سے منع فرمادیا۔ (دلائل النبوۃ، باب خروج النبی مع صا حبہ ابی بکر الصدیق ، ج۲، ص۴۷۶۔۴۷۷)
کبوتروں کے حق میں دعا
حضرت سیدنا ابو مصعب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناانس بن مالک ، حضرت سیدنا زید بن ارقم اورحضرت سیدنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی صحبت حاصل کی اور ان سب سے یہ حدیث سنی کہ ’’جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  غار میں تھے تو اللہ تعالٰیکے حکم سے اس کے منہ پر ایک درخت پیدا ہوگیا جس سے وہ چھپ گئے اور خدا تعالیٰ کے حکم سےمکڑی نے جالا بھی بُن دیا اوراللہ تعالٰی ہی کے حکم سے دوجنگلی کبوتریاں غارکے منہ پر آکر بیٹھ گئیں۔ قبائل قریش کے نوجوان لاٹھیاں، ڈنڈے اور تلواریں لیے دونوں کی تلاش میں سرگرداں غار تک آپہنچے اوران کا فاصلہ صرف چالیس ہاتھ رہ گیا،تو ان میں سے