پوری زندگی کے جملہ اعمال سے بہتر
حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں کچھ لوگوں کے متعلق عرض کیا گیاکہ وہ آپ کو حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپرفضیلت دیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور ارشاد فرمایا:خدا کی قسم!سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ایک رات اورایک دن کی نیکی میری زندگی کے جملہ نیک اعمال سے کہیں بہتر ہے ، اگر کہو تو تمہیں سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ایک دن اور ایک رات بتلائوں؟‘‘ عرض کیا گیا :’’امیر المومنین ! ضرور بتلائیے۔ فرمایا: ’’رات تو وہ ہے جب محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکۂ مکرمہ سے ہجرت کرکے رات کے وقت نکل پڑے ۔سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی آپ کے ساتھ تھے، جو سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کبھی آگے چلتے اور کبھی پیچھے، کبھی دائیں کبھی بائیں، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا : ’’ابوبکر ! یہ کیا ہے،تم پہلے توکبھی اس طرح نہیں چلے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’مجھے جب خوف آتا ہے کہ کوئی دشمن آگے گھات لگائے نہ بیٹھاہو تو آپ کے آگے چلنے لگتا ہوں اورجب یہ خیال آتا ہے کوئی پیچھا کرنے والاپیچھے سے حملہ آور نہ ہو تو آپ کےپیچھے چلنے لگ جاتاہوںاور چونکہ امن نہیں اس لیے دائیں بائیں بھی چل رہا ہوں۔‘‘حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات بھر اپنے پیروں کی انگلیوں پر چلتے رہے تاکہ قدموں کے نشان نہ ثابت ہوںجس کے سبب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدمین مبارکہ جا بجا زخمی ہو گئے، جب سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کے قدموں کی تکلیف دیکھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کندھوں پر اٹھالیا اور غار کے دھانے تک لے آئے، وہاں آپ کو اتارا پھر عرض کیا:’’ غار میں پہلے میںجاتا ہوں ،اگر کوئی چیز ہوگی تو آپ سے پہلے مجھے نقصان دے گی۔‘‘ سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاندر گئے اور کوئی موذی شےنہ پائی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اٹھاکر غارمیں لے آئے،جہاں ایک سوراخ تھا، جس