Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
220 - 691
 وَسَلَّم! اندرتشریف لے آئیے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَداخل ہوئے اور سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی گود میں سر انور رکھ کر استراحت فرمانےلگے، سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو سوراخ میں سے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا۔مگر حضور نبیٔ کریم، رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نیند میں خلل آجانے کے خوف سے انہوں نے ذ را جنبش تک نہ کی، مگر آنسو ٹپک پڑے جو رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رخ انور کے بوسے لینے لگے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیدار ہوئے اور فرمایا: ’’ابوبکر! تمہیں کیا ہوا ؟ ‘‘عرض کیا:’’کسی (سانپ)نےڈس لیا، آپ پر میرے ماں باپ قربان!‘‘سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے متاثرہ جگہ پر لعاب دہن لگایا تو وہ بالکل ٹھیک ہوگیا۔اور ایک دن کا عمل یہ ہے کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا سے پردہ فرمایا تو عرب قبائل مرتد ہوگئے وہ کہنے لگے کہ’’ ہم زکوٰۃ نہیں دیں گے۔‘‘سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’اگر وہ زکوٰۃ کی ایک رسی بھی نہ دیں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا، میں نے (یعنی سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے) عرض کیا: ’’اے خلیفہ رسول! لوگوں سے نرمی برتیں۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے فرمایا:’’ تم جاہلیت میں بڑے سخت تھے،اب اسلام میں آکر اتنے نرم کیوں ہو گئے ہو؟ وحی ختم ہوچکی اور دین مکمل ہوچکا،اب کسی نرمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا، کیا میرے زندہ ہوتے ہوئے دین میں کمی کردی جائے گی؟‘‘ (جامع الاصول فی احادیث الرسول،الکتاب السابع فی الغدر، الباب الرابع، الفرع الثانی فی فضائل الرجال علی الانفراد، الحدیث: ۶۴۲۶، ج۸، ص۴۵۸ )
کائنات کی منفرد عبادت
حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں’’جناب صدیق کی یہ خدمت ایسی مقبول ہوئی کہ سُبْحَانَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جب جناب صدیق (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کا سر مبارک اپنے زانو پر رکھ کر بیٹھے ہوں گے اور خوب جی بھر بھر کر چہرہ انور کو دیکھتے ہوں گے اس وقت ان کے دل کا کیا حال ہوگا وہ اس رات ایسی عبادت کر رہے تھے جو فرش وعرش پر کوئی نہ کررہا تھا۔ ان کا زانو حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی رحل بنی تھی سامنے جمال یار تھا۔‘‘ (مرآۃ المناجیح، ج۸،ص۱۶۳)