Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
219 - 691
 اکبر کو اس وقت حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا بہت غم اور کفار کا اندیشہ تھا اسی لیے ان پر سکینہ اتری، خیال رہے کہ بزرگوں کے تبرکات سے بھی سکون قلبی نصیب ہوتا ہے انہیں بھی رب تعالیٰ نے سکینہ فرمایا ہے چنانچہ تابوت سکینہ جس میں حضرت سیدناموسیٰ و ہارون عَلَیْہِمَا السَّلَام کے تبرکات عمامہ نعلین وغیرہ تھے ان کے متعلق رب تعالیٰ فرماتا ہے:)فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕ-(بعض لوگ قبروں پرتلاوت قرآن پاک کراتے ہیں تاکہ اس تلاوت سے میت کو سکون قلبی نصیب ہو اس کا ماخذ یہ حدیث ہے اور بعض لوگ اپنی قبروں میں اپنے بزرگوں کے تبر کات عمامہ وغیرہ اور اپنا شجرہ آیات قرآنیہ رکھ دینے کی وصیت کرتے ہیں تاکہ سکون قبر میسر ہو ان کا ماخذ قرآن کریم کی مذکورہ آیت ہے صحابۂ کرام  نے اپنے کفنوں میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ناخن، بال، تہبند شریف رکھوائے، خود حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنی بیٹی بی بی زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے کفن میں اپنا تہبند شریف رکھا ۔  (مرآۃ المناجیح، ج۳، ص۲۲۴)
حیاتِ صدیق کا ایک دن اورایک رات  
حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ایک بار حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر چھڑ گیاتوآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے روتے ہوئے فرمایا:’’میری یہ تمنا ہے کہ اے کاش ! میرے تمام اعمال صالحہ کے بدلے میں مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ایک دن اورایک رات کا عمل دےدیا جائے، ان کا ایک رات کا عمل تو ہجرت کے موقع پر تھا جب وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ غار کو چلے تھے، وہاں پہنچنے پر سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جب تک میں اندر نہ جائوں آپ داخل نہ ہوں، اگر اس میں کوئی نقصان دہ چیز ہوگی تو آپ سے پہلے مجھ تک پہنچے گی۔‘‘ تو وہ اندر گئے غار صاف کیا، غار میں چاروں طرف سوراخ تھے ، جنہیں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے تہبند کے ٹکڑے کرکے پُر کیا۔ دو سوراخ رہ گئے ان پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنا پائوں رکھ دیا اور عرض کیا:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ