Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
218 - 691
 ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ کون تھے جو شہید ہوئے تو میں نے دیکھا کہ انہیں آسمان اور زمین کے درمیان اٹھالیاگیایہاں تک کہ آسمان ا ن سے نیچے رہ گیا ۔‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’وہ عامر بن فہیرہ تھے۔‘‘ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، الرقم:۱۳۴۶، ج۲، ص۳۴۵، الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، الرقم:۴۴۳۳، ج۳، ص۴۸۲)
واقعہ غار ثورقرآن پاک سے
قرآن پاک میں بھی اس مبارکہ واقعہ کاتذکرہ موجود ہے۔ چنانچہ پارہ ۱۰ سورۃ التوبہ، آیت ۴۰ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: (اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰىؕ-وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَاؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۴۰))ترجمۂ کنزالایمان: ’’اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو ۲ جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ (اطمینان) اتارا اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں اور کافروں کی بات نیچے ڈالی اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘
سکینہ کسے کہتے ہیں؟
مفسر شہیرحکیم الامت مفتی احمدیارنعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں: ’’فرشتوں کی ایک جماعت کا نام سکینہ ہے چونکہ ان کے اترنے سے مومن کے دل کو سکون و چین حاصل ہوتا ہے اس لیے اسے سکینہ کہتے ہیں مومن پر بعض خاص حالات میں بھی اور خاص عبادات کے موقعہ پربھی یہ فرشتے اترتے ہیں رب تعالیٰ ہجرت کے غار کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق فرماتا ہے :’’فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ‘‘ صدیق