تَعَالٰی عَنْہ کےمتعلق قریش جوباتیں بھی کرتے یہ سارا دن انہیں نوٹ کرتے اور رات کو غار میں پہنچ کران دونوںمبارک ہستیوں کی خدمت میں پیش کردیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۰۵، ج۲ ، ص۵۹۳)
غلام کی خدمت گزاری
حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے آزاد کردہ غلام حضرت سیدنا عامر بن فہیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ غار ثور والے پہاڑ کے آس پاس دن بھر بکریاں چراتے رہتے، اور رات کو غار میں دودھ لیکر پہنچ جاتے تھے، یہ دونوں مبارک ہستیاں دودھ پی کر رات آرام سے گزارتیں،اور وہ غلام صبح بکریاں ہانک کردوبارہ انہیں چرانے کے لیے لے جاتا، تین راتوں تک یہی سلسلہ رہا۔ (صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ہجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث:۳۹۰۵،ج۲ ، ص۵۹۳)
سیدنا عامر بن فہیرہ کون تھے؟
حضرت سیدنا عامر بن فہیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپہلے طفیل بن عبد اللہکے غلام تھے اور اسی کی ملکیت میں تھے۔جب اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کو خرید کر آزاد فرمادیا۔ غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں بھی شرکت کی سعادت حاصل کی۔
جسد مبارک سے ایک نور نکلا
’’بیر معونہ‘‘ کے سانحہ میں چالیس برس کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایا۔ ان کو شہید کرنے والے سیدنا عامر بن طفیل ہیں جو بعد میں اسلام لے آئے اور درجۂ صحابیت پر فائز ہوئے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا بیان ہے کہ’’جب میں نے حضرت سیدنا عامر بن فہیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپر نیزے سے پہلا وار کیا تو ان سے ایک نور نکلا۔‘‘بعد ازاں حضرت سیدنا عامر بن طفیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے استفسار کیا: