Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
216 - 691
غار ثور کی اندرونی ساخت
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی غار ثور کی ہیئت کے متعلق فرماتے ہیں:’’اس غار کے دو دروازے ہیں،کفار اُس دروازے پر پہنچے جس سے حضور داخل ہوئے تھے ۔اس دروازے کی لمبائی ایک ہاتھ ہے چوڑائی صرف ایک بالشت۔ یہ فقیر اس غار شریف سے نکلتے وقت دروازے میں پھنس گیا تھا رگڑ سے کچھ سر کے بال اڑ گئے وہاں پہلے بہت سوراخ تھے مگر اب کوئی سوارخ نہیں ہے۔اندرچھ سات آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اس غار میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا تھا کہ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر کفار اپنے قدموں کو دیکھ لیں تو ہمیں بھی دیکھ لیں۔ فرمایا: ’’ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ‘‘ جو قرآن کریم نے نقل فرمایا، جناب صدیق کو تو اس غار میں مار یعنی سانپ نے کاٹا حیرت ہے کہ کفار نے جو کچھ کہا حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اندر سب کچھ سن لیا مگر ان حضرات نے جو اندر باتیں کیں وہ کفار نہ سن سکے۔ حالانکہ فاصلہ ایک ہی تھا یہ ہے حضور کا معجزہ ۔جناب صدیق اکبر کو اس وقت اپنی جان کا خوف نہیں تھا اپنی جان تو آپ پہلے ہی فدا کرچکے تھے کہ اکیلے اندھیرے غار میں گھس گئے سانپ سے کٹوالیا خوف حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تکلیف کا تھا یہ خوف بہترین عبادت تھاجس پر ساری عبادات قربان ہوں ۔‘‘  (مرآ ۃ المناجیح ،ج ۸، ص ۱۶۲۔۱۶۳، ۲۵۶ماخوذاً)
بیٹے کی خدمت گزاری
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لخت جگر حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبہت ہوشیار اور ذہین نوجوان تھے، رات اپنے والد حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ غارمیں گزارتے اور صبح اندھیرے منہ مکۂ مکرمہ آپہنچتے تھے، اہل مکہ یہی تصور کرتے کہ یہ رات انھوں نے مکۂ مکرمہ ہی میں گزاری،سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ