آپ جیسا وفاداردوست نہیں
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب غار میں نبیٔ کریم، رؤف رَّحیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پہلی رات آئی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے ساتھی حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا: ’’کیا تم سوئے ہو ؟‘‘ عرض کیا: ’’نہیںیارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں تو آپ کے رخ زیبا پر نظریں جمائے بیٹھاہوں،آپ کیسے ہیں؟‘‘ فرمایا:’’میں نے اس طرف ایک سوراخ میں کسی کو حرکت کرتے دیکھا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی اُلو(یا سانپ) وغیرہ نکل کر مجھے یا تمہیں نقصان نہ پہنچا دے۔‘‘سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’وہ سوراخ ہے کہاں؟‘‘ نبی اکرم، نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی نشاندہی کی جس پر سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہاں اپنی ایڑی رکھ دی، تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’اے صدیق! اللہتجھ پر رحمت نازل کرے،جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا توتو نے میری تصدیق کی،جب لوگوں نے مجھے دربدر کرنا چاہا تو تونے میری مدد کی،جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا اس وقت تو مجھ پر ایمان لایا، پھر غار میں وحشت کے وقت تم نے مجھ سے انس کیا تو کسی شخص کو تم سا دوست مل سکتا ہے؟‘‘
(الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۰۸)
کفار قریش غار تک آپہنچے
کفارِ قریش رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور جناب صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا پیچھا کرتے ہوئے قدموں کے نشانات کی مدد سے غار تک آ پہنچے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے غار کے باہران دونوں کے قدموں کے نشانات اپنی قدرت سے مٹا ڈالے ، چنانچہ انہیں پتہ نہ چل سکاکہ غارکے اندرکوئی موجود ہے۔ ان میں سے ایک شخص غار کے منہ پر بیٹھ کر پیشاب کرنے لگا۔ تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لگتا ہے کافروں نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’نہیں ابوبکر ! اگر انہوں نے ہمیں دیکھاہوتا تو یہ شخص ہماری طرف منہ کرکے ہمارے سامنے پیشاب نہ کرتا۔‘‘ بہرحال کفار واپس چلےگئے۔ (الریا ض النضرۃ، ج۱، ص۱۰۲)