Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
214 - 691
ناامید نہیں ہوں۔‘‘ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے مکے کا راستہ بتادیااور وہ عاشق رسول سانپ شوق زیارت لیے وہاں سے روانہ ہوا اور غار ثور میں پہنچ گیا۔غار میں پہنچ کر اس نے ستر ۷۰ سوراخ کیے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر مشاہدہ محبوب میں ایک راستہ بند کردیا جائے تو دوسرے راستے سے مشاہدہ کرسکے کیونکہ وہ سانپ جانتاتھا کہ اگر میرے جیسا دیدار کا طالب عاشق غار میں موجود ہے تو محبوب کے ساتھ بھی ایک عاشق ہے جو محبوب کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔بہرحال جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے غار کے تمام سوراخ بند کردیے اور جو ایک سوراخ رہ گیا تھااس پر بھی اپنی ایڑی رکھ دی تو اس عاشق سانپ نے ہر سوراخ کو چیک کیا، ایک سوراخ کے منہ پر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی نرم نرم ایڑی نظر آئی تو اس نے اَوّلا اس پر اپنا سر رگڑا تاکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنا پاؤں ہٹالیں، مگر آپ نے پاؤں نہ ہٹایا تو اس سانپ کو اِس کے بغیر کوئی راستہ نہ دکھائی دیا کہ پاؤں پرکاٹے تاکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپاؤں ہٹالیں، اس نے بار بار پاؤں کو کاٹا مگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پاؤں نہ ہٹایا۔    (معارج النبوۃ، رکن چھارم، ص۸)
امامِ عشق ومحبت، یارِ ماہ رسالت حضرتِ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سفر ہجرت کی بے مثال اُلفت وعقیدت کو سراہتے ہوئے اعلیٰ حضرت ،عظیم  البرکت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں:
صدیق بلکہ غار میں جاں اس پہ دے چکے
اور حفظ جاں تو جان فروض غرر کی ہے
ہاں! تونے اِن کو جان، انہیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابِت ہوا کہ جملہ فرائض فُروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد