اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! سیدنا علی المرتضیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی شجاعت یہ ہے کہ ہجرت کی رات حضور امام الانبیاء، محبوب کبریاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بستر پر آرام فرمائیں اور دشمنوں سے قطعاً کوئی خوف نہ کھائیں اور سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی شجاعت یہ ہے کہ حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ جائیں۔جبھی تو حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شجاعت کو خود بیان کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:’’اے لوگو! تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں۔‘‘ (کنز العمال، باب فضائل الصحابۃ، فضل الصدیق، الحدیث: ۳۵۶۹۰، ج۶، الجزء:۱۲، ص۲۳۵)
عاشق رسول سانپ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس سانپ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاؤں مبارکہ پر ڈسا وہ سانپ ایک عاشق رسول سانپ تھا۔ چنانچہ منقول ہے کہ ایک روز ایک سانپ حضرت سیدنا عیسیٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی:’’یَارُوْحَ اللہ! مکہ مکرمہ کو کونسا راستہ جاتاہے ؟‘‘آپ عَلَیْہِ السَّلَام بڑے حیران ہوئے اور ارشاد فرمایا: ’’اے سانپ! تجھےمکۂ مکرمہ سے کیا کام؟‘‘ اس سانپ نے گویا اپنے عشق کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی:’’حضورچھ سو(۶۰۰)سال سے میں اپنے محبوب حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت دل میں لیے تڑپ رہا ہوں اور ان سے ملنے کے لیے بے قرار ہوں، بس اب تو محبت کا غلبہ ہو چکاہے اور محبت عشق میں تبدیل ہوچکی ہے، سنا ہے کہ میرے محبوب مکۂ مکرمہ کی وادی میں تشریف لائیں گے اور وہاں سے ہجرت کرکے مدینۂ منورہ جائیں گےاور اس سفر میں وہ ایک پہاڑ کے اندر غار ثور میں بھی ٹھریں گے، یقینا ًمیں مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ تو جانے سے رہا کہ وہاں انسانوں کی آبادی ہے بس محبوب سے ملاقات اور زیارت کا ایک ہی طریقہ ہے کہ میں اس غار میں پہنچ جاؤں اور اپنے محبوب کی آمد کا انتظار کروں۔اس لیے آپ سے مکۂ مکرمہ کا راستہ پوچھ رہا ہوں۔‘‘ حضرت سیدنا عیسیٰ رُوْحَ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’میرے اور ان کے درمیان چھ سو سال(۶۰۰) کا زمانہ ہے، کیا تو اتنے عرصے تک وہاں انتظار کرے گا؟‘‘اس سانپ نے عرض کی: ’’اگرچہ عرصہ بہت طویل ہے لیکن میں