Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
212 - 691
عجیب معجزات ہیں۔‘‘ ( یعنی صدیقیوں کو سانپ کانہ کاٹنا ، کاٹے تو زہر کا اثر نہ کرنا اور آج تک پائوں کے انگوٹھے میں تل کا پایا جانا یہ سب سرکار رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک لُعاب کے معجزات ہیں۔)
ضعیفی میں یہ قوت ہے ضعیفوں کو قوی کر دیں
سہارا لیں ضعیف و اقویا صدیق اکبر کا
بیاں ہوں کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
کہ یار غار ہے محبوب خدا صدیق اکبر کا
بار نبوت 
فتح مکہ کے دن سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے خانہ کعبہ میں موجود تمام بتوں کر گرایا ، چند بت جو بلند جگہ پر تھے وہ رہ گئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ موجود حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ اپنے قدم ناز میرے کندھوں پر رکھیے اور ان بتوں کو گرا دیجئے۔‘‘ حضور نبیٔ کریم ،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اے علی! تم میں بار نبوت اٹھانے کی طاقت نہیں ، تم میرے کندھوں پہ آؤ اور ان بتوں کو گراؤ۔‘‘ حضرت سیدنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حکم بجالاتے ہوئے آپ کے کندھوں پر آئے اور بتوں کو گرادیا۔  (مدارج النبوۃ، ج۲، ص۲۹۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور فرمائیے! بیت اللہشریف میں حضور اکرم، نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرمائیں کہ’’ اے علی! تم بار نبوت نہ اٹھا سکو گے۔‘‘ اور ہجرت کی رات دشورا گزار چٹانیں ہیں، میلوں میل کا سفرہے اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہعرض کریں :یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ میرے کاندھوں پر سوار ہو جائیں تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے کاندھوں پر حضور نبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسوار ہو جائیں وہاں یہ نہ فرمایا کہ’’اے ابوبکر! تم بار نبوت نہ اٹھا سکو گے۔‘‘اور صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ کو اندھیری رات میں کاندھوں پر اٹھا کر پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں، یہ کس قدر طاقت وشجاعت ہے۔سُبْحَانَ