Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
211 - 691
سوراخ بندکرنے والا سارا ماجرا بیان کردیا تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کے حق میں یوں دعا فرمائی: ’’اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ أَبَا بَكْرٍ مَعِيَ فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! قیامت کے دن ابوبکر کو جنت میں میرے ساتھ جگہ عطا فرما۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف وحی فرمائی کہ’’بے شک آپ کے رب نے آپ کی دعا قبول فرمالی ہے۔‘‘ 						    (حلیۃ الاولیاء، الحدیث:۷۱،ج۱، ص۶۷)
صدیقی حضرات کے انگوٹھے میں نشان
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ ۶۴صفحات پر مشتمل رسالے ’’عاشق اکبر‘‘صفحہ ۵۶پر شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ ومولانا ابوبلا ل محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں:’’حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد کو’’ صدیقی‘‘ بولتے ہیں، ان کے پائوں کے انگوٹھے میں آج بھی سانپ کے کاٹنے کا نشان نظر آنا ممکن ہے۔ مگر دِکھائی نہ دینے پر کسی صدیقی صاحب کی صدیقیت پر بد گمانی جائز نہیں کہ ہر ایک میں یہ علامت واضح نہیں ہوتی۔ سگ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ نے ایک صدیقی عالم صاحب سے ’’انگوٹھے کا نشان‘‘ دکھانے کی درخواست کی تو کہا کہ میرے والِد صاحِب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے کُھرچ کرظاہر کیا تھا مگر اب پھر چُھپ گیا ہے۔مفسر شہیرحکیم الامت حضر ت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان ’’ مِراۃ المناجیح‘‘ جلد۸صفحہ۳۵۹ پر فرماتے ہیں:’’بعض صالحین کو فرماتے سنا گیا کہ جو شیخ صدیقی(سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے شہزادے جو کہ صحابی تھے اُن یعنی) حضرت محمد بن ابوبکر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کی اولاد سے ہیں، انہیں سانپ یا تو کاٹتا نہیں اگر کاٹے تو(زہر) اثر نہیں کرتا۔(یہ) اُس لعاب شریف کااثر ہے(جو کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے انگوٹھے پر غارثور میں سانپ کے ڈسنے کی جگہ لگایا تھا) اور ان کی اولاد کے پائوں کے انگوٹھے میں’’ سیاہ تل‘‘ ہو تا ہے حتی کہ اگر ماں باپ دونوں کی طرف سے شیخ صدیقی ہو تو دونوں پائوں کے انگوٹھے میں تل ہو گا۔ میں نے بہت(سے) صدیقی حضرات کے پائوں کے انگوٹھے میں یہ تل دیکھے ہیں۔ غرضیکہ یہ