Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
210 - 691
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیدار ہوگئے اور فرمایا: اے ابو بکر !کیا بات ہے؟‘‘عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!سانپ نے ڈس لیا ہے۔‘‘ فرمایا:’’لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا یعنی اے ابوبکر!غم نہ کرو، بے شک اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہے۔‘‘پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اس بات سے اللہ تعالٰی نے ابوبکر کے دل پر سکون نازل کردیا۔اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس حصے پر اپنا لعاب دَہن (یعنی تھوک شریف)لگایا توفوراً آرام مل گیا۔‘‘ (مشکاۃ المصابیح،کتاب المناقب والفضائل، الفصل الثالث،  الحدیث:۶۰۳۴،ج۳، ص۳۳۸، دلائل النبوۃ، باب خروج النبی مع صا حبہ ابی بکر ، ج۲،ص۴۷۷، تفسیر روح البیان، التوبۃ:۴۰، ج۳، ص۴۳۴)
نہ کیوں کر کہوں یَاحَبِیْبِیْ اَغِثْنِیْ!
اِسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے
منزلِ صدق و عشق کے رہبر حضرتِ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عظمت اور غار ثور والے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا : 
یار کے نام پہ مرنے والا، سب کچھ صَدَقہ کرنے والا
ایڑی تو رکھدی سانپ کے بِل پر، زہر کا صدمہ سہ لیا دل پر
منزلِ صدق وعشق کا رَہبر، یہ سب کچھ ہے خاطرِ دلبَر
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر کے حق میں جنت کی دعا
حضرت سیدنا امام ابو نعيم احمد بن عبد اللہ اصبهانيقُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِیفرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے غار ثور میں موجود تمام سوراخ اپنے کپڑے کے ذریعے بند کردیے، جب صبح ہوئی تو حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا:’’اے ابوبکر! تمہاراکپڑا کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے