Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
209 - 691
صدیق اکبر کی انگلی کازخمی ہونا
حضرت سیدناجندب بن عبداللہبن سفیان علقیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنبیٔ کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ غار کی طرف جارہے تھے تو راستے میں ان کے ہاتھ پر زخم آگیا،جس سے خون صاف کرتے ہوئے وہ یہ کہہ رہے تھے:’’ھَلْ اَنْتِ اِلَّا اِصْبَعٌ دَمَیْتِ وَفِی سَبِیْلِ اللہِ مَا لَقَیْتِ ‘‘یعنی اے انگلی! تجھ سے صرف خون ہی تو بہا ہے اورتجھے جو تکلیف آئی ہے کیا وہ اللہ کی ر اہ میں نہیں؟‘‘
(سیر اعلام النبلاء،الرقم ۱۵۱۸،یحیٰ بن آدم بن سلیمان،ج۸، ص۳۴۱)
غار ثور میں داخلہ
حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات بھر اپنے پیروں کی انگلیوں پر چلتے رہے تاکہ قدموں کے نشان نہ ثابت ہوںجس کے سبب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قدمین مبارکہ جا بجا زخمی ہو گئے، جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کے قدموں کی تکلیف دیکھی تو آپ کو کندھوں پر اٹھالیا اور غار کے دھانے تک لے آئے، وہاں آپ کو اتارا، پھر عرض کیا:’’ پہلے میں غار میں جاتا ہوں ،اگر کوئی چیز ہوگی تو آپ سے پہلے مجھے نقصان دے گی، ابوبکر اندر گئے اور اسے اچھی طرح صاف کیا ، غار میں موجود تمام سوراخوں کو (ایک کپڑے کے ذریعے) بند کیا، کوئی موذی شےنہ پائی تو آپ کو اٹھاکر غارمیں لے آئے اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  آپ کی گود میں سررکھ کر استراحت فرمانے لگے۔البتہ غار میں ایک سوراخ باقی رہ گیا اور اسی میں سانپ تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ڈر ہوا کہ کہیں کوئی موذی شے نکل کر رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوتکلیف نہ پہنچائے انہوں نے اس پر اپنے پاؤں کی ایڑی رکھ دی، تواس سوراخ میں موجودسانپ نے آپ کے پاؤں پر ڈس لیا، آپ نے جنبش نہ کی کہ کہیں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آرام میں خلل واقع نہ ہوجائے مگر تکلیف کے سبب آنسو چھلک پڑے اور دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نرم ونازک مبارک رخسار کے بوسے لینے لگے ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ