تیری پاکیزگی کا وعظ تک کہنے نہیں دیتے
جدائی عارضی ہے پھر بھی مجھ کو بے قراری ہے
کہ تو اور تیری رفاقت مجھ کو دنیا سے پیاری ہے
صدیق اکبر کی انوکھی آرزو
جب محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ سے ہجرت کرکے رات کے وقت نکل پڑے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی آپ کے ساتھ تھے، جو سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کبھی آگے چلتے اور کبھی پیچھے، کبھی دائیں، کبھی بائیں، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا : ’’ یَا اَبَابَکْر! مَالَکَ تَمْشِی سَاعَۃً بَیْنَ یَدَیَّ وَسَاعَۃً خَلْفِییعنی اےابوبکر ! یہ کیا ہے،کبھی تم میرے آگے چلتے ہواور کبھی پیچھے،تم پہلے توکبھی اس طرح نہیں چلے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے جب خوف آتا ہے کہ کوئی دشمن آگے گھات لگائے نہ بیٹھاہو تو آپ کے آگے چلنے لگتا ہوں اورجب یہ خیال آتا ہے کوئی پیچھا کرنے والاپیچھے سے حملہ آور نہ ہو تو آپ کےپیچھے چلنے لگ جاتاہوں۔‘‘دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’یَا اَبَابَکْر! لَوْ کَانَ شَیْءٌ اَحْبَبْتَ اَنْ یَکُوْنَ لَکَ دُوْنِی؟ یعنی اے ابوبکر! کیا تم یہ پسند کرتے ہوکہ اگر کوئی تکلیف پہنچے تو تمہیں پہنچے مجھے کچھ نہ ہو؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا: ’’نَعَم! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا کَانَتْ لَتَکُنْ مِنْ مَلِمَّۃٍ اِلَّا اَحْبَبْتُ اَنْ تَکُوْنَ لِیْ دُوْنَکَجی ہاں! یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس رب ذوالجلال کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا!میں تو یہ پسند کرتاہوں کہ کوئی بھی تکلیف ومصیبت ہو تو مجھے پہنچے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کچھ بھی نہ ہو۔‘‘ (دلائل النبوۃ، باب خروج النبی مع صا حبہ ابی بکر ، ج۲، ص۴۷۶)
یوں مجھ کو موت آئے تو کیا پوچھنا مِرا
میں خا ک، پر نگاہ درِ یار کی طرف