ایک اہم مدنی پھول
عموما ایسا ہوتاہے کہ مسافراپنے لیے زاد سفر کابھی خاص اہتمام کرتاہے ، لیکن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشق پرقربان!آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہگھرسے پانی کا ایک مشکیزہ ، ایک کھال اور کچھ پیسے بھی اپنے ہمراہ لائے تھے، لیکن وہ اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے محبوب اورپیارے دوست جناب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیےاور اپنے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو لائے تھے۔ (مرآۃ المناجیح،ج۸،ص۱۶۴بتصرف)
پروانے کو چراغ تو بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
مر ہی جاؤں میں اگر اس سے جاؤں دو قدم
کیا بچے بیمار غم قرب مسیحا چھوڑ کر
سرزمین مکہ سےخطاب
حضرت سیدنا حمراء زہری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حَزْوَرَہ ٹیلے پر کھڑے ہوئے اور سرزمین مکہ سے یوں خطاب فرمایا:’’ اے مکہ کی زمین! خدا کی قسم! تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ساری زمینوں سے زیادہ پیاری اور محبوب جگہ ہے اور اگر مجھے کفار یہاں سے تکالیف دے کر نہ نکالتے تو میں ہرگز تجھ سے نہ نکلتا۔‘‘ (سنن الترمذی، کتاب المناقب عن رسول اللہ، فضل فی مکۃ، الحدیث: ۳۹۵۱، ج۵، ۴۸۶)
نبی نے خانۂ کعبہ کو دیکھا اور فرمایا
اے پیارے تیری میری فرقت کا وقت ہے آیا
تیرے فرزند اب مجھ کو یہاں رہنے نہیں دیتے