صدیق اکبر کے خوشی کے آنسو
اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروزانہ ہمارے پاس تشریف لاتے تھے کبھی توصبح تشریف لاتے اورکبھی شام۔ پھر جب وہ دن آیا جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو ہجرت کی اجازت عطا فرمائی توحضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہجرت میں رفاقت کے لیے عرض کیااور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاکہ’’ ہاں تم میرے ساتھ رہو گے۔‘‘ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:’’مجھے اس سے پہلے اس بات کا شعور بھی نہ تھا کہ کوئی خوشی کے مارے بھی روتاہے۔ لیکن اس دن فرط جذبات سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی آنکھیں بھیگ گئیں ۔‘‘ (الریاض النضرۃ،ج۱، ص۱۰۱)
سفر کے لیے زادراہ
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: ’’ ہم نے دونوں کے زادسفر کے لئے جلدی جلدی جو ہوسکا تیار کردیا اور چمڑے کی ایک تھیلی میں تھوڑا سا کھانا رکھ دیا۔‘‘
(صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث۳۹۰۵:ج۲ ، ص۵۹۳)
بیٹی کی خدمت گزاری
حضرت سیدتنا اسماء بنت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں: ’’سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور میرے والد ماجد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب ہمارے گھر سے ہجرت کے سفر پر روانہ ہونے والے تھےتومیں نے ان کا کھانا تیار کیا، روٹی اور پانی کا برتن باندھنے کے لیے کوئی کپڑا گھر میں نہ تھا، میں نے اپنے والد سے کہا:’’ میرے کمربند کے سوا اورکوئی کپڑاگھر میں نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے فرمایا:’’ اسے درمیان سے پھاڑ دو، ایک میں پانی کا برتن اور دوسرے میں کھانا باندھ دو۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا۔ اس دن سے مجھے ذَاتُ النِّطَاقَیْن یعنی دوکمر بند والی کہا جانے لگا۔(چستی حاصل کرنے کے لیے جو کپڑا کمر میں باندھا جاتاہے اسے کمر بند کہتے ہیں۔) (صحیح البخاری ، کتاب الجھاد و السیر، باب حمل الزاد فی الغزو، الحدیث:۲۹۷۹، ج۲ ، ص۳۰۴)