اونٹنی آٹھ سو درہم میں خریدی
حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: ’’سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے وہ اونٹنی آٹھ سو درہم میںخریدی مگر قرض،مگر یہ ثابت نہیں کہ یہ قرض صدیق اکبر نے وصول کیا یا نہیں؟ اگر کیا ہوگاتوآپ ہی پر خرچ کیا ہوگا۔‘‘ (مرآۃ المناجیح، ج۸، ص۴۴۸)
اونٹنی خریدنے میں حکمت
(1)حضرت علامہ محب طبری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشادفرماتے ہیں:’’ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اونٹنی اس لیے خریدی تاکہ آپ کی ہجرت کا ثواب خاص آپ کے لیے ہواس میںکوئی دو سرا شریک نہ ہو۔ ورنہ اونٹنی کو قیمتاً لینے کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ سرکا ر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مال کو اپنامال سمجھتے تھے اوراس میں اپنے مال جیسا ہی تصرف فرماتے تھے ۔‘‘
(الریاض النضرۃ، ج۱ص۱۰۰)
(2)حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی ارشاد فرماتے ہیں: ’’سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اونٹنی اس لیے خریدی تاکہ آپ کی ہجرت خاص آپ ہی کے مال سے ہو۔‘‘
(فتح الباری، کتاب مناقب الانصار،باب ھجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ، ج۸، ص۲۰۰)
ہجرت کے رفیق سفر
حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہ حضرت سیدناجبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس حاضر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا: ’’میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا؟‘‘ عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کے ساتھ ابوبکر ہجرت کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔‘‘
(کنزالعمال، کتاب الھجرتین ، الحدیث:۴۶۲۸۴،ج۸، الجزء:۱۶، ص۲۸۵، الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۰۴)