۱۰۰سو اونٹ بطور انعام
سارےمشرکین مکہ آپ کی تلاش میں نکلے اور حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مکان پر پہنچے ،اس وقت حضرت سیدتنا اسماء بنت ابی بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکھانا تیار کررہی تھیں، مشرکین مکہ کو دیکھ کرا نہوں نے ’’دِیا‘‘ روشن کردیا تاکہ ا س کے دھوئیں کی بوسالن کی خوشبو پر غالب ہوجائے اور کفار کو شک نہ گزرے۔ کفار نے ان دونوں مبارک ہستیوں کے متعلق آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا۔ کہا:’’میں تو کام کررہی ہوں۔‘‘ یہ سن کر وہ مشرکین چلے گئے اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شہید کرنے والے کے لیے ۱۰۰ اونٹ دینے کا اعلان کردیا۔ (الریا ض النضرۃ، ج۱، ص۱۰۲)
کفار قریش نے بڑے بڑے شہہ سواروں سے بھی ان سو اونٹوں والے انعام کا معاہدہ کرلیا تھااور مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ کے مابین ان علاقوں میں بھی اس کی اطلاع دے دی تھی جن سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے گزرنا تھا۔
صدیق اکبر کی اونٹنی کی پیش کش
حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس چونکہ دو اونٹنیاں تھی، لہٰذاآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دونوں میں جوسب سےبہتر تھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں پیش کردی اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ پر میرے ماں باپ قربان!آپ اس پرسواری فرمایئے۔‘‘ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’میں اپنی سواری کے سوا کسی پر نہ بیٹھوں گا۔‘‘عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ آپ ہی کی ہے۔‘‘فرمایا :’’نہیں! بلکہ میں اسے خریدوں گا اوروہ قیمت دوں گا جس پر تم نے اسے خریدا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب ھجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۰۵ ،ج۲ ، ص۵۹۳،الریاض النضرۃ،ج۱،ص۱۰۰)
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا