عَنْہنے عرض کیا:’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے باپ آپ پر قربان ! ضرور کوئی خاص بات ہے جب ہی تو آپ اس وقت کڑکتی دھوپ میں تشریف لائے ہیں۔‘‘ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: ’’آپ نے اندر آنے کی اجازت چاہی اورپھراندرتشریف لے آئے،ارشاد فرمایا:’’اے ابوبکر!اپنے پاس سے دیگر لوگوں کو ہٹا دو۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے باپ آپ پر قربان!یہاںصرف آپ کی شریک حیات عائشہ ہی ہیں۔‘‘ فرمایا:’’مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔‘‘ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے باپ آپ پر قربان! کیا مجھے بھی آپ کی ہمراہی کا شرف ملے گا؟‘‘ فرمایا:’’ہاں!تم ہی میرے رفیق سفر ہوگے۔‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۰۵ ، ج۲ ، ص۵۹۲)
ہجرت مدینہ اورکفار کاناپاک منصوبہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کفار قریش مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود اسلام کے تیزی سے پھیلنے پر تشویش میں مبتلا تھے ، پھر مسلمانوں کی مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت ان کے لیے مزید تشویش کا باعث بن گئی کہ مسلمان مدینۂ منورہ جاکر کہیں ان کے خلاف جنگی تیاریاں نہ شروع کردیں لہٰذا انہوں نے حضور سید المرسلین، خاتم النبیین صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مَعَاذَ اللّٰہ شہید کرنے کاناپاک منصوبہ بنایا اور اس کی تکمیل کے لیے مختلف قبائل کے چند نوجوانوں کو تیار کرکے کاشانۂ نبوت کا محاصرہ کرلیا لیکن وہ اپنے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بخیرو عافیت اُن کے سامنے سے تشریف لے گئےاوراپنے کاشانۂ اقدس سے نکل کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھر تشریف لے گئے اور پورا دن ٹھہرنے کے بعد اگلی رات مکۂ مکرمہ سے ہجرت کرکے غار ثور کی طرف تشریف لے گئے۔ (السیرۃ الحلبیۃ، باب عرض رسول اللہ۔۔۔الخ، ج۲، ص۳۶، تفسیر روح البیان، تحت سورۃ التوبۃ، آیت۴۰،ج۳، ص۴۳۱، سبل الھدی والرشاد، الباب الرابع فی ھجرۃ رسول اللہ، ج۳، ص۲۳۹)