Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
202 - 691
نہ تھا آسان منہ اپنے وطن سے موڑ کر جانا
رسول پاک کو مکے میں تنہا چھوڑ کر جانا
مگر فرمان محبوب خدا، فرمان باری تھا
مسلمانوں کا شیوہ، شیوۂ طاعت گزاری تھا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر کا اِرادۂ ہجرت
نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے چونکہ مسلمانوں کو ہجرت کا حکم مل چکاتھا اس لیے حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی مدینہ طیبہ ہجرت کا ارادہ کیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا:’’ابھی ٹھہرجاؤ!کیونکہ امید ہے مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی۔‘‘حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرطِ مسرت سے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے باپ آپ پر قربان ! کیاآپ کو ایسی امید ہے؟‘‘ فرمایا: ’’ہاں‘‘ تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ ہجرت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہرک گئے اور جو دو اونٹنیاں آپ کے پاس تھیں انہیں چار ماہ تک کیکر کے پتے کھلا کر فربہ کرتے رہے تاکہ وہ سفرِہجرت میں کام آئیں۔
(صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۰۵، ج۲ ، ص۵۹۲)
گھر میںرسول اللہ کی آمد
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا    فرماتی ہیں: ہم ایک روز اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا: ’’اے ابوبکر ! وہ دیکھو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چہرے پرچادر ڈالے تشریف لارہے ہیں۔‘‘یہ ایسا وقت تھا جس میں آپ ہمارے ہاں تشریف نہ لاتے تھے۔ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی