عَنْہکے ساتھ تین راتیں یعنی جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی راتیں قیام فرمایا۔وہاں سے پیر کی رات ۵ربیع الاول کو مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ (المواھب اللدنیۃ، المقصد الاول،ھجرتہ، ج۱، ص۱۴۵، سیرت سید الانبیاء، ص۲۳۱)
مقامِ ہجرت کا تعین
حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’اے مسلمانو! مجھے تمہاری ہجرت کا علاقہ دکھایا گیا ہے، مکۂ مکرمہ سے ہجرت کرکے جہاں تم نےبسیرا کرنا ہے وہاں دو پتھریلے میدانوں کے درمیان واقع ایک نخلستان ہے۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب ھجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۰۵، ج۲، ص۵۹۲)
ہجرت کے لیے مدینہ ہی کا تعین کیوں؟
نبوت کے تیرہویں سال ہجرت اور اس کے ابتدائی واقعات رونما ہوئے، کفار قریش کے ظلم وستم کے سبب حضور اکرم، نور مجسم، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس انتظار میں رہے کہ اللہ تعالی کوئی ایسا سبب پیدا فرمادے اور کوئی ایسی قوم مل جائے جو دین اسلام کی ناصر ومؤید ہواور دین اسلام کے دشمنوں کے معارض ومتصادم رہے۔ اسی لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مختلف قبائل عرب کے مجمعوں میں تشریف لے جاتے اور انہیں دین اسلام کی دعوت دیتے ، لیکن وہ صاف جواب دیتے کہ اگر آپ کے قبیلے کے لوگ آپ کو تسلیم کرلیں تو ہم بھی تسلیم کرلیں گے ۔ بہرحال مختلف وفود آتے اور مختلف تبصرے کرتے اور چلے جاتے، ایک بار حج کے موسم میں خزرج قبیلے کا ایک مدنی قافلہ مکہ مکرمہ آیا، سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِنہیں اسلام کی دعوت پیش کی تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نصرت کا عہد قبول کرکے مدینۂ منورہ کی طرف لوٹ گئے اس کو ’’بیعت عقبہ اُولیٰ‘‘ کہتے ہیں، کیونکہ یہ بیعت مِنٰی کی پہاڑی میں عقبہ کے قریب ہوئی جسے جمرۃ العقبہ بھی کہتے ہیں۔ جب یہ مبارک جماعت مدینہ منورہ پہنچی تو رسو ل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذکر مبارک کا مدینہ منورہ کی مجالس اور گھروں میں بہت چرچا ہوا اور خوب