صدیق اکبر اور ہجرتِ مدینہ
ہجرتِ رسول اللہ میں حکمت
حضرت سیدنا احمد بن محمد قسطلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی ہجرت مدینہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم اس لیے ارشاد فرمایا کہ اشیاء آپ کے ذریعے مشرف ہوں نہ یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے ذریعے شرف حاصل کریں، اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممکہ مکرمہ ہی میں رہتے اور وہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوتا تو یہ وہم ہوسکتا تھا کہ مکہ مکرمہ کی وجہ سے آپ کو شرف حاصل ہوا کیونکہ مکہ مکرمہ کو حضرت سیدنا ابراہیم واسماعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ذریعے شرف حاصل ہو چکا تھا، تو اللہ
عَزَّ وَجَلَّ نے ارادہ فرمایا کہ آپ کا شرف ظاہر ہوتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا ، جب آپ نے اس کی طرف ہجرت فرمائی تو وہ مدینہ طیبہ آپ کے ذریعے مشرف ہوگیا حتی کہ اس بات پر اجماع ہے کہ زمین کا وہ حصہ جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اعضاء مبارکہ سے مس ہے وہ تمام مقامات حتی کہ عرش وکرسی سے بھی افضل ہے۔‘‘
(المواھب اللدنیۃ،المقصد الاول،ھجرتہ، ج۱، ص۱۴۵،فتاوی رضویہ، ج۱۰، ص۷۱۱)
ہجرت مدینہ کس تاریخ کو ہوئی؟
امام حاکم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ’’ بیعت عقبہ کے تین مہینے بعد یا اس کے قریب قریب نبی اکرم، نور مجسم ،شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہجرت فرمائی۔‘‘اور امام ابن اسحاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یکم ربیع الاول( ۶۲۲ء) جمعرات کی رات کو مکہ مکرمہ سے نکل کر غار ثور میں تشریف لے گئے۔غار ثور میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی