اسلام کی اشاعت ہوئی۔ اگلے سال حج پر پھر ایک مدنی قافلہ آیا ، اس بار دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے ساتھ احکام شرعیہ سکھانے کے لیے حضرت سیدنا مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینۂ منورہ روانہ کیا ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہاں خوب احکام اسلام کی تبلیغ فرمائی اور پھر تقریباً قبیلہ اوس وخزرج کے پانچ سو، ایک روایت کے مطابق تین سو افراد کا مدنی قافلہ لے کر حاضر ہوئے اور ان سب نے اسلام قبول کیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نصرت کا عہد کیا اسے ’’عقبہ ثانیہ‘‘ کہتے ہیں۔قافلے کے اعتبار سے یہ ’’عقبہ ثالثہ‘‘ ہے یہ تیسراقافلہ تھا، بہرحال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعوت کو فی الفور قبول کرنے ، ان کی نصرت وحمایت کا عہد کرنے والی قوم کا تعلق مدینۂ منورہ سے تھا اور وہاں اسلام کو بہت پذیرائی ملی اور ان سے مسلمانوں کو کوئی خدشہ نہیں تھا اس لیے ہجرت کے لیے مدینہ شریف معین کیا گیا۔ (مدارج النبوۃ، ج۲، ص۵۲)
مسلمانوں کوہجرت کا حکم
سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کے بعد سب لوگ مدینہ منورہ (جو اس وقت یثرب کے نام سے مشہور تھا) کی طرف ہجرت کرتے رہے، کیونکہ وہی ایسا نخلستان ہے جو دو ریگستانوں کے مابین واقع ہے اور ہجرت اول کے مسلمان یعنی مکہ سےحبشہ ہجرت کر کے جانے والے بھی مدینہ منورہ پہنچنا شروع ہوگئے۔
(صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب ھجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۰۵، ج۲، ص۵۹۲ )
ادھر مکے میں دنیا تنگ تھی ایمان داروں پر
کہ روندے جارہے تھے پھول کے سے جسم خاروں پر
نبوت نے اجازت دی تھی کہ یثرب چلے جاؤ
وطن والوں کے اس ظلم وتعدی سے اماں پاؤ
صحابہ پہ اگرچہ قہر کے بادل برستے تھے
بچارے سانس آزادی کو لینے کو ترستے تھے