حبشہ کی دو ہجرتیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حبشہ کی جانب دو ہجرتیں کی گئیں، پہلی ہجرت پانچ بعثت نبوی کو ہوئی،اس میںبارہ صحابۂ کرام اور پانچ صحابیات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم شامل تھیں۔جبکہ دوسری ہجرت حبشہ بعثت نبوی کے پانچویں سال کے آخر میں یا چھٹے سال کے شروع میں کی گئی ،اس ہجرت میں تراسی صحابۂ کرام اور گیارہ قرشی اور سات غیر قرشی صحابیات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے شرکت کی، بعض علماء کرام نے فرمایاکہ اس میں شرکت کرنے والوں کی تعداد مذکورہ بالا تعداد سے زائد تھی۔ (سیرت سید الانبیاء، ص۹۷تا۹۸)
تاریخ اسلام کا ایک منفرد اور عجیب واقعہ
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی پہلی اور دوسری ہجرت حبشہ کے بعد قریش نے حبشہ کے بادشاہ سیدنا نجاشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دربار میں ان اہل ایمان کو واپس لانے کے لیے سفارتی رابطہ کیا ، دونوں طرف سے رابطے میں حضرت سیدنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہشامل تھے، اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر خصوصی کرم فرمایا اور انہوں نے نجاشی بادشاہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیااور دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت سے مشرف ہوکردرجہ صحابیت پر فائز ہوئے۔ اس طرح یہ تاریخ اسلام کا ایک منفرد اور عجیب واقعہ ظہور پذیر ہوا کہ صحابی حضرت سیدنا عمر و بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تابعی یعنی حضرت سیدنا نجاشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ، الھجرۃ الاولی الی الحبشۃ، ج۱، ص ۵۰۶ ملخصا)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حبشہ کی ان دونوں ہجرتوں کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ارشادفرمایاتوجن لوگوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی وہ بھی مدینۂ منورہ ہجرت کرگئے اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کے لیے روانہ ہوگئے۔