Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
196 - 691
گوارا نہ کیا کہ چھپ کرعبادت وریاضت کروں لہٰذاآپ نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنالی اور اس میں نماز کی ادائیگی و قرآن پاک کی تلاوت وغیرہ شروع کردی۔ مشرکین کی عورتیں اور بچے آپ کے گرد جمع ہوجاتے اورخوش ہوکر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عبادت وریاضت کو بڑے انہماک سے دیکھتے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی رقیق القلب تھے ،جب قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو بے اختیار رونے لگ جاتے۔ سردارانِ قریش نے جب اپنی عورتوں اور بچوں کی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عبادت وریاضت میں دلچسپی دیکھی توغصے سے تلملا اٹھےاورفوراً اِبْنِ دَغِنَہکو بلا یا۔جب وہ ان کے پاس گیاتو کہنے لگے:’’ اے اِبْنِ دَغِنَہ دیکھو!ہم نے تمہاری وجہ سے ابوبکر کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر عبادت وغیرہ کرتارہے مگر وہ تو حد سے بڑھ گیاہے، اس نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بھی بنا لی ہے اور ہمارے معاہدے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ جوکرے گاآہستہ آوازسے کرے گا لیکن اب تو اس نے بلند آواز سے قرآن کی تلاوت بھی شروع کردی ہےاوراس سے ہمارے بچوں اور عورتوں کے گمراہ ہوجانے کا خطرہ ہے۔ اب ہم صرف تمہاری وجہ سے اسے آخری وارننگ دے رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی عبادت وغیرہ اپنے گھر ہی میں کرسکتاہے توٹھیک! ورنہ وہ تمہاری امان سے نکل جائےگا۔‘‘ اِبْنِ دَغِنَہآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آیااورکہنے لگا:’’اے ابوبکر!میں نے تم سے کفار قریش کی طرف سے جومعاہدہ کیاتھا وہ یقیناً تمہیں یاد ہوگا، اب تمہارے پاس صرف دوآپشن ہیں: ایک تو یہ کہ تم اس معاہدے کی پاسداری کرواورجیسا قریش کہتے ہیں ویسا ہی کرو۔دوسرا یہ کہ اگرتم ایسا نہیں کر سکتے تو پھر میری طرف سے معذرت قبول کرو،میں تمہارے معاملے میں کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ میں بھی ایک سردار ہوں مجھے یہ گوارا نہیں کہ میرے متعلق اہل عرب یہ کہیں کہ اِبْنِ دَغِنَہنے کسی شخص کے معاملے میں معاہدہ کیاتھا لیکن اس کی بات کی کوئی اہمیت نہ رہی۔‘‘یہ سن کرحضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’ٹھیک ہے!مجھے تمہاری امان کی کوئی ضرورت نہیں، میرے لیے میرے رب کی امان ہی کافی ہے۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب ھجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۰۵، ج۲، ص۵۹۱)