Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
195 - 691
جا کے سکون سے اپنے رب کی عبادت کروں۔‘‘ اِبْنِ دَغِنَہ چونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عظمت وشرافت سے اچھی طرح واقف تھا، فورا سمجھ گیا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ کفار مکہ نے زیادتی کی ہے لہٰذا اس نے فرط محبت سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’ اے ابوبکر! تم کہیں نہیں جاؤ گے،تمہارے جیسا آدمی نہ توکسی کو گھر سے نکال سکتا ہے اور نہ ہی اسے اپنےگھر سےنکالاجاسکتا ہے کیونکہ تم فقراء کی مدد، رشتہ داروں سے حسن سلوک، بیکسوں کی کفالت ، مہمانوں کی میزبانی اور راہ حق میں پیش آنے والی مصیبتوں پر لوگوں کی بہت مدد کرتے ہو،میں تمہارےساتھ ہوں اور تمہیں اپنی امان میں رکھوں گا۔ واپس چلو اور اپنے ہی علاقے میں اپنےرب کی عبادت کرو۔‘‘ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اِبْنِ دَغِنَہکی درخواست پراس کے ساتھ ہی مکۂ مکرمہ واپس آگئے۔ جب شام ہوئی تو اِبْنِ دَغِنَہقریش کے بڑے بڑے سرداروں کے پاس گیا اور ان کوملامت کرتے ہوئے کہنے لگا:’’بڑے افسوس کی بات ہے!ابوبکر جیسے شریف شخص کو تم نے شہر چھوڑنےپرمجبورکردیا،ایسے عظیم لوگوں سے شہروں کو بسایا جاتاہے نہ کہ انہیں شہر بدر کیاجاتاہے۔یاد رکھو!میرے ہوتے ہوئے ایسا شخص نہ تو خود شہرچھوڑ کر جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی میں ہمت ہے کہ اسے شہرسے باہر نکلنے پر مجبور کرے۔ ارے کم بختو!سوچو، تم ایک ایسے عظیم شخص کو شہر سے نکالنا چاہتے ہوجو فقیروں کی مدد، رشتہ داروں سے صلہ رحمی اورمصائب وآلام میں لوگوں کی مدد کرتا ہے۔‘‘ اِبْنِ دَغِنَہکی اس سرزنش پرقریش کے سرداروں میں سے کسی کوانکار کی جرأت نہ ہوئی البتہ انہوں نے یہ کہنے کی جسارت ضرور کی کہ ’’اےاِبْنِ دَغِنَہ!ٹھیک ہے ہم تمہارے کہنے پرابوبکرکوشہربدرہونے پر مجبور نہیں کریں گے لیکن ہماری بھی ایک شرط ہے وہ یہ کہ تم ابوبکر سے کہہ دواپنے رب کی عبادت، نمازوغیرہ جو کچھ بھی کرنا ہے صرف اپنے گھر میں ہی کرےاورہاں! اسے جوکرناہے آہستہ آواز میں کرے تاکہ ہمیں کوئی پریشانی نہ ہوکیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ اس کی عبادت وغیرہ کو دیکھ کر کہیں ہمارے بیوی بچے فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔‘‘ اِبْنِ دَغِنَہنے ان کی یہ شرط قبول کرلی اورحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی اس معاہدےسے آگاہ کردیا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چند دنوں تک ویسا ہی کیا لیکن اس کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی نے