Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
189 - 691
 پر ’’قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اللہِ‘‘کہنا مستحب ہے۔ پھر اپنے انگوٹھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھے اور کہے:’’اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِی بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ‘‘ توایسا کرنے والے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔  (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوۃ، فی کراھۃ تکرار ۔۔۔ الخ،  ج۲، ص۸۴)
(6)جنت کی صفوں میں داخلہ
علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جو شخص اذان میں ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلٌ اللہ‘‘ سن کر اپنے انگوٹھوں کے ناخنوں کو چومے تو ایسے شخص کے لیے سرکارصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے کہ میں اس کا قائد بنوں گا اور اسے جنت کی صفوں میں داخل کروں گا۔   (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوۃ، فی کراھۃ تکرار الجماعۃ فی المسجد، ج۲، ص۸۴)
(7)انگوٹھے چوم کر آنکھوں پرلگانے کی برکت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عشاق تو آج بھی نام نامی اسم گرامی سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانے کی برکتیں لوٹ رہے ہیں، اسی ضمن میں ایک مدنی بہارپیش خدمت ہے۔چنانچہ بابُ المدینہ(کراچی) کے علاقے ملیر ہالٹ کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے:’’۲۹ رمضان المبارک ۱۴۲۸سن ہجری کی بات ہے ، عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی میں اجتماعی اعتکاف کے پر کیف مناظرتھے اورنمازِ فجر کے بعد معتکفین اسلامی بھائی شیخ طریقت، امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دیدار کی برکتیں لُوٹ رہے تھے ۔اعتکاف کے جدول کے مطابق شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ پڑھاجانے لگا تو میں پہلی صف میں آکر بیٹھ گیا ۔سب اسلامی بھائی مل کر بلند آواز سے شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ کے منظوم دعائیہ اشعار پڑھ رہے تھے جب سرکارِ مدینہ، سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکرمبارک آیا تو میں نے اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے