(3)نام نامی مصیبت میں کام آگیا
حضرت فقیہ محمد بن نسیابا رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک بار آندھی چلی تو ان کی آنکھ میں چھوٹا سا پتھر چلا گیا،اسے نکالنے کی کوشش کرتے تو شدید درد ہوتا، جب مؤذن نے ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ‘‘کہا تویہ کلمات سن کر آپ نے ’’مَرْحَبًا بِحَبِيْبِيْ وَقُرَّةُ عَيْنِيْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہ‘‘کہا، پھر دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگائے تو اس کی برکت سے فورا وہ پتھر آنکھ سے نکل گیا اور آپ کو اس آزمائش سے نجات مل گئی۔ (المقاصد الحسنہ للسخاوی، حرف المیم، الحدیث:۱۰۲۱، ص۳۹۱)
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہوگا
(4)انگوٹھے چومنے والاکبھی اندھا نہ ہوگا
حضرت سیدنازاہد بلالیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی سے روایت ہے کہ سیدنا امام حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:جو شخص مؤذن سے ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ‘‘ سن کر کہے:’’مَرْحَبًا بِحَبِيْبِيْ وَقُرَّةُ عَيْنِيْ مُحَمَّد بْنُ عَبْدِ اللہ‘‘ پھر دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھے، وہ کبھی اندھا نہ ہوگا اور نہ ہی اس کی آنکھیں کبھی دکھیں گی۔ (المقاصد الحسنہ للسخاوی، حرف المیم، الحدیث:۱۰۲۱، ص۳۹۱)
(5)جنت میں سرکار کے پیچھے پیچھے
حضرت علامہ ابن عابدین شامی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:اذان میں پہلی مرتبہ ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہ‘‘ سننے پر ’’صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ!‘‘کہنااور دوسری مرتبہ ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ‘‘سننے