Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
190 - 691
 لگائے۔یکایک مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی، سر کی آنکھیں کیا بند ہوئیں میرے دل کی آنکھیں کھل گئیں۔ میں نے دیکھا کہ امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ہمراہ شجرہ شریف پڑھنے والے تمام اسلامی بھائی سنہری جالیوں کے روبرو حاضر ہیں۔ ہمارے مَدَنی آقا ،دوعالم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہاں اپنے عشاق کو شربتِ دیدار پلا رہے ہیں۔ حاضرین شجرہ عالیہ کے دُعائیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور ہمارے میٹھے میٹھے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے دست پراَنوار بلند کئے ان دعائیہ اشعارپر اٰمین فرما رہے تھے ۔‘‘سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ 
آنکھوں کا تارا نام محمد
دل کا اُجالا نام محمد
دولت جو چاہو دونوں جہاں کی
کرلو وظیفہ نام محمد
رکھو لحد میں جس دم عزیزو
مجھ کو سنانا نام محمد
پوچھے گا مولا ہے لایا کیا کیا
میں یہ کہوں گا نام محمد
اپنے جمیل رضوی کے دل میں
آجا سما جا نام محمد
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد