Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
186 - 691
 کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا جائز ومستحب اور باعث رحمت وبرکت ہے،نیزایسا کرنا حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ثابت ہے۔چنانچہ،
صدیق اکبر نے انگوٹھے آنکھوں پر لگائے
حضرت سیدنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرت سیدنا ابن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ے روایت کرتے ہیں کہ ایک باردس محرم الحرام کو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد نبوی میں ایک ستون کے قریب تشریف فرما ہوگئے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے برابربیٹھے تھے۔ مؤذن رسول حضرت سیدنا بلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اذان دینا شروع کی اور جب انہوں نے ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ‘‘ کہا تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے دونوں انگوٹھوں کے ناخنوں کو اپنی دونوں آنکھوں پر رکھااور کہا:’’قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اللہ !‘‘جب حضرت سیدنا بلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاذان دے چکے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اے ابوبکر!جو شخص ایسا کرے جیسا تم نے کیا   اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دے گا۔‘‘
(روح البیان، الاحزاب:۵۷، ج۷، ص۲۲۹)
سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے انگوٹھے چومے
جب حضر ت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جنت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ملاقات کا اشتیاق ہوا تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ وہ آپ کی صلب میں ہیں اور آخری زمانے میں ظہور فرمائیں گے۔پھر حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دائیں ہاتھ کے کلمے کی انگلی میں نور محمدی چمکایاتو اس نور نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح پڑھی، اسی لیے اس انگلی کا نام کلمے کی انگلی ہوااور   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے حبیب