Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
184 - 691
 اس طرح دعا کیا کرتے تھے: ’’اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْاَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِيْ لَا تَنَالُ مِنْكَ اِلَّا بِالْخُرُوْجِیعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے تیری اس رحمت کا سوال کرتاہوں جوتواپنی راہ میں نکلنے والوں کو عطا فرماتاہے۔ ‘‘
(کنزالعمال، کتاب الاذکار ، الادعیۃ المطلقۃ، الحدیث:۵۰۳۰،ج۱،الجزء:۲،  ص۲۸۵)
(8)مجھ پر حق کو واضح فرما
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے:’’اَللّٰھُمَّ اَرِنِی الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقنِی اتِّبَاعَہٗ وَاَرِنِی الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَارْزُقْنِی اجْتِنَابَہٗ وَ لاَ تَجْعَلْہُ مُتَشَابِھًا عَلَیَّ فَاَتَّبِعَ الْھَوٰییعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھ پر حق کو واضح فرمااور مجھے اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما اور باطل کو میرے سامنے واضح فرمااورمجھے اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما اور اسے میرے لئے مشتبہ نہ بنا کہ میں خواہشوں کی پیروی کرنے لگوں۔‘‘( احیاء العلوم،کتاب المراقبۃ  والمحاسبۃ، بیان حقیقۃ المراقبۃ ودرجاتھا،ج۵، ص۱۳۴)
صدیق اکبر کی مختلف وصیتیں
(1)دس باتوں کی وصیت
حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ملک شام کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اس پرسیدنا یزید بن ابوسفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو امیر مقرر کیااور ارشاد فرمایا: ’’میں تمہیں دس چیزوں کی وصیت کرتاہوں:(۱) کسی عورت کو قتل نہ کرنا (۲) کسی بچے کو قتل نہ کرنا (۳) بوڑھے کو بھی قتل نہ کرنا (۴)پھل دار درخت نہ کاٹنا (۵) آبادی کو خراب نہ کرنا (۶)کسی بکری یااونٹ کی کونچیں(یعنی ایڑیوں کے اوپر موٹے پٹھے)نہ کاٹناصرف کھانے کے لیے کاٹنی ہوں تو اجازت ہے (۷) کھجور کے درخت نہ اکھاڑنا (۸)نہ ہی انہیں جلانا (۹) خیانت نہ کرنا (۱۰) کہیں بھی بزدلی نہ دکھانا۔‘‘
 (مصنف عبد الرزاق، کتاب الجھاد، باب عقر الشجر بارض العدو، الحدیث: ۹۴۳۷، ج۵،ص۱۳۶، تاریخ الخلفاء، ص۷۶)