’’بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ کوئی پوری زندگی جنتیوں والے اعمال کرتارہتاہے لیکن اس کا خاتمہ جہنمیوں والے عمل پر ہو جاتا ہے، اور ایسا بھی ہوتاہے کہ کوئی پوری زندگی جہنمیوں والے اعمال کرتارہتاہے لیکن اس کا خاتمہ جنتیوں والے عمل پر ہوجاتاہے۔‘‘(یعنی ہمیشہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہو) (کنزالعمال، کتاب الایمان، الباب الاول، الفصل السابع، الحدیث: ۱۵۳۷، ج۱،الجزء:۱، ص۱۷۶)
(2)جنازہ پڑھانے کے بعددعا
حضرت سیدنا ابو مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے منقول ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجب کسی میت کا جنازہ پڑھالیتے تویوں دعا فرماتے: ’’اَللّٰهُمَّ عَبْدُكَ اَسْلَمَهُ الاَهْلُ وَالْمَالُ وَالْعَشِيرَةُ وَالذَّنْبُ عَظِيمٌ وَأَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تیرے اس بندے کو اس کے اہل وعیال ، مال ومتاع اور دیگر رشتہ داروں نے بے یارومددگار چھوڑ دیاہے اس کے گناہ بہت زیادہ ہیں لیکن توغفور رحیم ہے(اس کے تمام گناہوں کو بخش دے)۔‘‘
(المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الجنائز، باب ما قالوا فی الصلاۃ علی الجنازۃ، الحدیث:۵، ج۳، ص ۱۷۷)
(3)جنات النعیم کے اعلی درجات
حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی دعا میں یہ فرمایاکرتے تھے:’’اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْاَلُكَ الَّذِي ھُوَ خَیْرٌ فِي عاَقِبَةِ اَمْرِيْ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مَا تُعْطِيْنِيْ الْخَيْرَ رِضْوَانَكَ وَالدَّرَجَاتِ الْعُلٰى فِيْ جَنَّاتٍ النَّعِيْم یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے اسی شے کا سوال کرتاہوں جو میری عاقبت کے لیے اچھی ہو۔ اے اللہ ! توجو بھی مجھے بھلائی عطا فرمااس کا انجام اپنی خوشنودی اور جنات النعیم کے اعلی درجات بنادے۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب الاذکار ،الادعیۃ المطلقۃ، الحدیث:۵۰۲۶، ج۱، الجزء:۲، ص۲۸۴)
(4)اشیاء میں تمام نعمت کاسوال
حضرت سیدنا عبد العزیز بن ابو سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی