رہوں مست وبے خود میں تیری وِلا میں
پلا جام ایسا پلا یا الہٰی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(8)رضائے الہی کے سبب دعا قبول
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’ایک بھائی کی دعا دوسرے بھائی کے حق میں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی خاطر کی جائے قبول ہوجاتی ہے۔‘‘ ( الزھد للامام احمد، زھد ابی بکر الصدیق،الرقم: ۵۷۴، ص۱۴۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل عموماً لوگوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں، رورو کے دعائیں کرتے ہیں تو بھی قبول نہیں ہوتیں ۔لیکن یاد رکھیے کہ دعا مانگنے کے بھی کچھ آداب ہیں، دعا کی قبولیت کے بھی اسباب ہیں۔ دعا کے تفصیلی آداب جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۱۸ صفحات پر مشتمل ، اعلیٰ حضرت ، عظیم البرکت ، مجدددین وملت شاہ امام احمد رخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے والد گرامی حضرت علامہ مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی کتاب ’’فضائل دعا‘‘ کا مطالعہ فرمائیے۔
صدیق اکبر سے منقول دعائیں
(1)صبح وشام مانگی جانے والی دعا
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میرے والد گرامی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہصبح وشام ایک دعا مانگا کرتے تھے اور وہ دعا یہ ہے:’’اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِمَهُ وَخَيْرَ اَيَّامِيْ يَوْمَ اَلْقَاكَ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری عمر، عمل اورمیرے ایام زندگی کی بھلائیوں کومیری عمرکے خاتمے والے دن تک باقی رکھ جب میں تجھ سے ملاقات کروں گا۔ ‘‘عرض کی گئی:’’اے ابوبکر! آپ کو یہ دعا مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتوصحابی رسول ہیں، ثانی اثنین فی الغار ہیں۔‘‘ فرمایا: