Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
180 - 691
 (7)ذکراللہ سےغفلت کا انجام
حضرت سیدنامیمون بن مہران عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّانسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں ایک بڑے پروں والا کوا پیش کیا گیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے پروں کو ہاتھ لگا کر دیکھا اور ارشاد فرمایا:’’کوئی شکاراس وقت تک شکار نہیں کیا جاتا اورنہ ہی کوئی درخت اس وقت تک کاٹا جاتا ہے جب تک کہ ذکر اللہ  سے غافل نہ ہوجائے۔‘‘ ( مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد،  کلام ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۱۱، ج۸، ص۱۴۶، الزھد للامام احمد، زھد ابی بکر الصدیق، الرقم: ۵۶۷، ص۱۳۹)
دلوں کا اطمینان اللہ کی یاد میں ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج ساری دنیا میں ایک عالمگیر بے چینی پائی جارہی ہے کوئی ملک، کوئی شہر اور کوئی گاؤں بلکہ کوئی گھر ایسا نہیں جہاں بدامنی اور بے چینی نہ پائی جاتی ہو، آج ہر شخص بے چینی کا شکار نظر آرہاہے۔ آہ! نادان انسان شراب وکباب کی محفلوں، سینما گھروں کی گیلریوں، ڈرامہ گاہوں اور نجانے کون کون سی جنسی ورومانی ناولوں کے مطالعہ میں سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ آخر سکون کہاں ملے گا؟ آئیے قرآن سے سوال کرتے ہیں ، اے اللہ تعالٰی کے سچے اور پاکیزہ کلام تُوہی ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں ارشاد فرماکہ سکون کہاں ملتاہے؟ جب ہم نے قرآن مجید کی خدمت میں استفسار کیا تو جواب ملا: (اَلَابِذِكْرِاللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)) (پ۱۳، الرعد:۲۸)ترجمۂ کنز الایمان: ’’سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔‘‘گویا یہ بے چینی اور بے اطمینانی ذکر اللہ سے غفلت کی وجہ سے ہے اللہ تعالٰی کا ذکر دل کی غذاہے اور دل اگر اپنی غذا نہ پائے تو بے چین نہ ہوتو کیا ہو؟ معلوم ہوا کہ یہ پریشانیاں اور حیرانیاں محض اللہ  تعالٰی کے ذکر سے غفلت کے باعث ہیں۔
محبت میں اپنی گما یا الہٰی
نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الہٰی