Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
179 - 691
سیدنا امام غزالی کی تشریح
حضرت سیدنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:’’تمہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا دل عربی بدوؤں کے دلوں سے زیادہ سخت تھا یا آپ کو  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے کلام سے اس قدر محبت نہ تھی جس قدر اُن کو تھی۔بلکہ دل پر بار بار گزرنے سے آپ اس کے عادی ہوگئے تھے اور اس کا اثر کم معلوم ہوتا تھا۔ کیوں کہ کثرت سماع (بار بار سننے)کی وجہ سے اس سے اُنس حاصل ہوگیا تھا کیونکہ عادتاً یہ بات محال ہے کہ کوئی سننے والا قرآن پاک کی آیت سنے جو پہلے نہ سنی اور اس پر روئے اور بیس سال تک اسے باربار پڑھ کر روتا رہے اور پہلی اور آخری حالت میں کوئی فرق نہ ہو۔ ہاں کوئی نئی بات ہو تو متاثر ہوگا کیونکہ ہر نئی چیز میں لذت ہوتی ہے اور ہر نئی بات کا ایک صدمہ ہوتا ہے۔ہر وہ چیز جس سے الفت ہو اس کے ساتھ انس ہوتا ہے جو صدمہ کے خلاف ہوتا ہے۔اسی لیے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارادہ فرمایا کہ لوگوں کو زیادہ طواف سے منع کردیں اور ارشاد فرمایا: ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں لوگ اس گھر (خانۂ کعبہ)سے مانوس نہ ہو جائیں اور یوں اس کی وقعت کم ہو جائے۔‘‘ جو شخص حج کرنے آتا ہے اور پہلی مرتبہ خانۂ کعبہ کو دیکھتا ہے وہ روتا ہے اور چلاتاہے اور بعض اوقات بے ہوش بھی ہوجاتا ہے جب اس کی نگاہ بیت اللہ  شریف پر پڑتی ہے اور بعض اوقات وہ مہینہ بھر مکہ مکرمہ میں ٹھہرتا ہے تو وہ بات اپنے دل میں نہیں پاتا۔
(احیاء العلوم، کتاب آداب السماع والوجد، ج۲، ص۳۶۹)
صاحب حلیۃ الاولیاء کی وضاحت
حضرت سیدنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہٗ النُّوۡرَاۡنِیۡ  فرماتے ہیں: ’’امیر المؤمنین حضر ت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے فرمان’’دل سخت ہو گئے ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ دل مضبوط اور   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت سے مطمئن ہوگئے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء،الحدیث:۷۵،   ج۱،  ص۶۸ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد