Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
178 - 691
 فرمایاکرتے تھے :’’میرے اور فجر(یعنی طلوع صبح صادق) کے مابین کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں سحری کرلوں۔‘‘یعنی سحری کا وقت ختم ہوتوبتانا۔‘‘حضرت سیدنا ابوقلابہ اور حضرت سیدنا ابوسفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے تھے: ’’میرے سحری کرنے تک دروازہ بند کردو۔‘‘ ( تاریخ الخلفاء، ص۷۵)
(5)چھوٹی سی تکلیف پربھی اجر
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے یہ بھی منقول ہے کہ ’’بلا شبہ مسلمانوں کو ہر چیز پر اجر دیاجاتاہے حتی کہ چھوٹی سی مصیبت اور تسمے کے ٹوٹنے پر بھی نیز اس مال پر بھی جو اس کی آستین میں پڑا ہوا ہو پھر وہ مسلمان اسے ڈھونڈتا پھرے اور اسے اس مال کے گم ہونے کا اندیشہ ہو پھر اسے ذہن پر زور دے کر حاصل کرے۔‘‘  (الزھد للامام احمد، زھد ابی بکر الصدیق،الرقم: ۵۶۵،  ص۱۳۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی ہر طرح کی دُنیوی تکلیف و مصیبت پرصبر کر کے اجر حاصل کرنا چاہیے کیوں کہ آفات وبلیات یعنی بلائیں اور آفتیں، گناہوں کے کفّارے اور باعثِ ترقیٔ درجات ہوتی ہیں ۔ چنانچہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت، پیکر جودو سخاوت، سراپا رحمت ورافت صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہ کی سزافوری طور پراسے دنیا ہی میں دے دیتا ہے ۔ ‘‘  (مسند امام احمد،مسند المدینین، حدیث عبد اللہ بن مغفل المزنی،  الحدیث: ۱۶۸۰۶، ج ۵ ، ص۶۳۰) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(6)پہلے ہماری بھی یہی حالت تھی
حضرت سیدناابو صالح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمانۂ خلافت میں اہل یمن کا ایک وفد حاضر ہواجب انہوں نے قرآن سنا تو رو نے لگے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’پہلے ہماری بھی یہی حالت تھی لیکن اب دل سخت ہوگئے ہیں۔‘‘ (المصنف لابن ابی شیبۃ ،کتاب الزھد ،باب ما قالوا فی ۔۔۔الخ،الحدیث:۳، ج۸، ص۲۹۶)