Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
177 - 691
اچھوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۱۶ صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضان سنت‘‘جلددوم، باب ’’نیکی کی دعوت‘‘ صفحہ ۲۸۰پرشیخ  طریقت، امیر اہلسنت ،بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مذکورہ بالا فرمان ذکرکرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں:
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! یقیناً اچھوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے، دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۱۸صفحات پر مشتمل کتاب ’’فضائل دعا‘‘ صفحہ ۸۱پر دعا کی قبولیت کے آداب میں ادب نمبر۳۳ ہے: (دعا کے دوران)’’آنسو ٹپکنے میں کوشش کرے اگر چہ ایک ہی قطرہ ہو کہ دلیل اجابت ( یعنی قبولیت کی دلیل) ہے۔ رونا نہ آئے تو رونے کا سامنہ بنائے کہ نیکوں کی صورت بھی نیک(یعنی اچھی) ہے۔‘‘دعا کے بیان کردہ ادب کی شرح میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: یہ ( رونے جیسی) صورت بنانا بہ نیت تَشَبُّہ (یعنی رونے والوں کی نقّالی) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور(یعنی بارگاہِ الٰہی میں) ہے نہ کہ اوروں کے دکھانے کو کہ وہ (یعنی لوگوں کو دکھانے کیلئے کرنا) ریا ہے اور حرام ، یہ نکتہ یاد رہے۔
نَدامت سے گناہوں کا اِزالہ کچھ تو ہو جاتا
مجھے رونا بھی تو آتا نہیں ہائے ندامت سے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(4)سحری کاوقت
حضرت سیدنا سالم بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمجھ سے