تین احادیث مبارکہ
حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی پڑوسی کے ساتھ جھگڑنے والے شخص کو کس طرح احسن انداز میں نیکی کی دعوت پیش کی اور واقعی عموماً ہوتا بھی ایسا ہی ہے کہ جب پڑوسی آپس میں کسی بات پر جھگڑتے ہیں تو سراسر ان ہی کا نقصان ہوتاہے کیونکہ لڑائی کے بعد بھی انہیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے اور ان کا آپس میں جھگڑا کرنا دیگر لوگوں کے لیے تماشا بن جاتاہے۔احادیث مبارکہ میں پڑوسی کے کئی حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ چنانچہ، تین احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں:
(1)’’بندہ اس وقت تک مؤمن نہيں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے پڑوسی کو اپنی شرارتوں سے محفوظ نہ رکھے۔‘‘
(مجمع الزوائد،کتاب الادب، باب فی الشیخ المجھول۔۔۔الخ،الحدیث: ۱۳۰۲۷،ج۸،ص۱۴۵)
(2) ’’جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے، جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے يا خاموش رہے ۔‘‘
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب الحث علی اکرام الجار۔۔۔الخ،الحدیث:۴۷، ص۴۴)
(3)’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے بہترین رفیق وہ ہے جو اپنے دوستوں کے لئے زیادہ بہتر ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسیوں کے لئے زیادہ بہتر ہو۔‘‘
(سنن الترمذی، ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی حق الجوار،الحدیث: ۱۹۵۱،ص۳۷۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(3)رونے جیسی صورت ہی بنالو
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’جو رونے کی طاقت رکھتاہو اسے رونا چاہیے ورنہ رونے جیسی صورت ہی بنالے۔ ‘‘ (شعب الایمان، باب فی الخوف من اللہ، الحدیث: ۸۰۶، ج۱، ص۴۹۳)