کی جان نہیں چھوڑرہا تھا وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میرا حسن ظن ہے کہ مدنی قافلے میں ۱۲ماہ سفر کی نیت کرنے کی برکت سے ختم ہو چکا تھا ۔
السر وکینسر یا ہو درد کمر
دیگا مولیٰ شفا، قافِلے میں چلو
دور بیماریاں، اور پریشانیاں
ہوں بفضلِ خُدا، قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(2)پڑوسی سے جھگڑا مت کرو
حضرت سیدنا عبد الرحمن بن قاسم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیدنا عبد الرحمن بن ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سےگزرے تووہ اپنے پڑوسی کو ڈانٹ رہے تھے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا:’’اپنے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا مت کرو کیونکہ یہ تویہیں رہے گالیکن جولوگ تمہاری لڑائی کودیکھیں گے وہ یہاں سے چلے جائیں گےاور مختلف قسم کی باتیں بنائیں گے۔‘‘
(کنز العمال، کتاب الصحبۃ ، باب فی حقوق تتعلق بصحبۃ الجار، الحدیث:۲۵۵۹۹، ج۵، الجزء:۹، ص۷۹)
پڑوسی کے حقوق
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام میں پڑوسی کے حقوق کی بہت اہمیت ہے۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ميں تمہيں پڑوسيوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصيت کرتا ہوں۔‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پڑوسيوں کے اس قدر حقوق بيان فرمائے کہ ایسے لگا جیسے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے وراثت ميں حصہ دار بنا ديں گے۔ (المعجم الکبیر ،محمد زیاد الالھانی عن ابی امامۃ، الحدیث: ۷۵۲۳، ج۸ ، ص ۱۱۱)