جاں کنی کی تکلیفیں ذَبح سے ہیں بڑھ کر کاش!
مُرغ بن کے طیبہ میں ذَبح ہو گیا ہوتا
آہ! کثرتِ عصیاں ہائے! خوف دوزخ کا
کاش! اِس جہاں کا میں نہ بَشَر بنا ہوتا
دنیاتو نری آزمائش ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس فرمان میں عبرت کے بے شمار مدنی پھول ہیں، واقعی دنیا تو نری آزمائش ہے، بلکہ جو اس دنیا میں آگیا یقینا ًوہ پھنس گیااور جو جتنا جلدی ایمان کی سلامتی کے ساتھ اس سے چلا گیا وہ اتنا ہی فائدے میں رہا۔
چارچیزوں کے سوادنیا ملعون ہے
سلطان مدینہ قراب قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے : ’’ہوشیار رہو، دنیا لعنتی چیز ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ ملعون ہے، سوائے اللہ تعالٰی کے ذکر اور اس چیز کے جو رب تعالٰی کے قریب کردے اور عالم اور طالب علم کے۔‘‘ (سنن الترمذی،کتاب الزھد، باب ما جاء فی ھوان الدنیا علی اللہ، الحدیث: ۲۳۲۹، ج۴، ص۱۴۴)
مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’ جو چیز اللہ ورسول سے غافل کردے وہ دنیا ہے یا جو اللہ ورسول کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیا ہے۔ بال بچوں کی پرورش ، غذا، لباس ، گھر وغیرہ۔ (شریعت کی نافرمانی سے بچتے ہوئے) حاصل کرنا سنت انبیاء کرام ہے یہ دنیا نہیں۔‘‘ (مراۃ المناجیح، ج۷، ص۱۷)
دولت دنیا سے بے رغبت مجھے کردیجئے
میری حاجت سے مجھے زائد نہ کرنا مالدار