Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
172 - 691
تعزیت کرنے کے آداب
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۶۵صفحات پر مشتمل کتاب ’’بہار شریعت‘‘جلد اول، حصہ چہارم صفحہ ۸۵۲پر ہے:
(1) تعزیت مسنون (یعنی سنت )ہے۔ (2) تعزیت کا وقت موت سے تین دن تک ہے، اس کے بعد مکروہ ہے کہ غم تازہ ہوگا مگر جب تعزیت کرنے والا یا جس کی تعزیت کی جائے وہاں موجود نہ ہو یا موجود ہے مگر اُسے علم نہیں تو بعد میں حرج نہیں۔ (3) دفن سے پیشتر بھی تعزیت جائز ہے، مگر افضل یہ ہے کہ دفن کے بعد ہو یہ اُس وقت ہے کہ اولیائے میّت جزع و فزع نہ کرتے ہوں، ورنہ ان کی تسلی کے ليے دفن سے پیشتر ہی کرے۔ (4)مستحب یہ ہے کہ میّت کے تمام اقارب کو تعزیت کریں، چھوٹے بڑے مرد و عورت سب کو مگر عورت کو اُس کے محارم ہی تعزیت کریں۔ تعزیت میں یہ کہے، اللہ  تعالٰیمیّت کی مغفرت فرمائے اور اس کو اپنی رحمت میں ڈھانکے اور تم کو صبر روزی(یعنی عطا) کرے اور اس مصیبت پر ثواب عطا فرمائے۔(مزیدتفصیل کے لیے بہار شریعت جلد اول، ص۸۵۲ملاحظہ کیجئے۔)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
فرامینِ صدیق اکبر
(1)خوش قسمت شخص
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا:’’بہت خوش قسمت ہے وہ شخص جو ابتدائے اسلام میں(یعنی فتنوں کے سر اٹھانے سے پہلے) دنیا سے چلاگیا ۔‘‘  (مسند الفردوس، باب الطاء، الحدیث:۳۷۴۷، ج۲، ص۴۶)
کاش! کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا
قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا