رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کے اولیاء سے تعزیت کرتے تویوں فرماتے :’’تسکین میں کوئی مصیبت نہیں ، رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں، موت اپنے مابعد کے لیے آسان اور ماقبل کے لیے سخت ہے،تم نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری کو یاد کرو تمہاری مصیبت کم ہوجائے گی اور تمہارااجر بڑھ جائے گا۔‘‘
(التمھید لما فی المؤطا من المعانی والاسانید، عبد الرحمن بن قاسم بن محمد ، ج۸، ص۹۷)
تعزیت کرنا باعث ثواب ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی مصیبت زدہ مسلمان سے تعزیت کرنا بھی باعث ثواب ہے۔احادیث مبارکہ میں اس کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔چنانچہ اس ضمن میں تین احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں:
(1)’’جو بندۂ مومن اپنے کسی مصیبت زدہ بھائی کی تعزیت کر ے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اسے کرامت کا جوڑا پہنائے گا۔‘‘ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجنائز ،باب ماجاء فی ثواب من عزی مصابا،الحدیث: ۱۶۰۱،ج۲، ص ۲۶۸ )
(2)حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشادفرماتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت سیدناموسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ رب العزت میں عرض کی:’’اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ! وہ کون ہے جوتیرے عرش کے سائے میں ہوگاجس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا؟‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’اے موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام ) !وہ لوگ جو مریضوں کی عیادت کرتے ہیں،جنازہ کے ساتھ جاتے ہیں اورکسی کابچہ فوت ہوجائے اس سے تعزیت کرتے ہیں۔‘‘
(حلیۃ الاولیاء ، الحدیث: ۴۷۰۶، ج۴، ص ۴۸)
(3) ’’جو کسی غمزدہ شخص سے تعزیت کر ے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے تقویٰ کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے پہنائے گا جن کی قیمت (ساری )دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی، من اسمہ ھاشم، الحدیث: ۹۲۹۲، ج۶، ص ۴۲۹ )