Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
170 - 691
گھر میں تشریف لانے والے مہمان اس برتن سے بھی زیادہ شفاف و نورانی ہیں اور ان کا کلام اس شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہےاور ان کا دل اس بال سے بھی زیادہ باریک یعنی نازک ہے۔‘‘   (تفسیر روح البیان، تحت سورۃ الرعد، ج۴، ص۳۷۷)
اہلسنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ  کی
اللہ  میرا حشر بوبکر اور عمر
عثمان غنی وحضرت مولی علی کے ساتھ
پہنچوں مدینے کاش! اس بے خودی کے ساتھ
روتا پھروں گلی گلی دیوانگی کے ساتھ
سیدنا صدیقِ اکبر کی اپنی بیٹی پر شفقت 
حضرت سيدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہيں کہ ايک مرتبہ کسی غزوہ سے حضرت سيدنا ابو بکر صديق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مدينہ منورہ تشريف لائے ميں ان کے ساتھ ان کے گھر گيا ،کيا ديکھتا ہوں کہ ان کی صاحبزادی حضرت سيدتناعائشہ صديقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بخار ميں مبتلا ہيں اور ليٹی ہوئی ہيں ۔چنانچہ حضرت سيدنا ابو بکر صديق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کے پاس تشريف لائے اور ان کی عیادت کرتے ہوئے پوچھا ’’ميری بيٹی! طبيعت کیسی ہے؟‘‘پھر (ازراہ ِشفقت)ان کے رخسار پر بوسہ ديا۔		
(سنن ابی داود، کتاب الادب ،باب فی قبلۃ الخد،الحدیث: ۵۲۲۲،ج۴،  ص ۴۵۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر اور لواحقین سے تعزیت
تعزیت کا مدنی انداز
حضرت سیدناقاسم بن محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب کسی کا انتقال ہوجاتااور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق