’’لَا يَلِيْقُ الْاَكْلُ قَبْلَ الْمَقَالَةِ کچھ کہنے سے قبل کھانا لائق نہیں ہےیعنی ہمارے سامنے ایک سفید چمکدار برتن میں تھوڑا سا شہد ہے اور اس میں بھی سیاہ بال ہے ، لہٰذا کھانے سے قبل ان تینوں چیزوں یعنی اس برتن، شہداور سیاہ بال کے بارے میں سب کچھ نہ کچھ گفتگو کریں گے ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ مدنی مشورہ سب کو بہت پسند آیااور سب نے رضامندی کا اظہار کیا۔ البتہ یہ مطالبہ کیا گیا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ چونکہ ہم میں سب سے زیادہ عزیزومکرم اور ہمارے سردار ہیں لہٰذا گفتگو کی ابتداء آپ ہی سے ہو گی۔آپ نے فرمایا :’’ ٹھیک ہے ۔‘‘پھر ارشاد فرمایا:
’’ اَلدِّيْنُ اَنْوَرُ مِنَ الطَّسْتِ وَذِكْرُ اللہِ تَعَالٰى أَحْلَى مِنَ العَسَلِ وَالشَّرِيْعَةُ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا دین اس برتن سے بھی زیادہ نورانی ہے، اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر اس شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے، اور شریعت اس بال سے بھی زیادہ باریک ہے۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یوں لب کشائی کی:
’’اَلْجَنَّۃُ اَنْوَرُ مِنَ الطَّسْتِ وَنَعِیْمُھَا اَحْلٰى مِنَ العَسَلِ وَ الصِّرَاطُ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِیعنی جنت اس برتن سے بھی زیادہ نورانی ہے، اور اس کی نعمتیں اس شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہیں اور پل صراط اس بال سے بھی زیادہ باریک ہے۔‘‘حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یوں گویا ہوئے:
’’اَلْقُرْآنُ أَنْوَرُ مِنَ الطَّسْتِ وَقِرَاءَتُہُ أَحْلَى مِنَ العَسَلِ وَ تَفْسِیْرُہُ اَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِیعنی قرآن پاک اس برتن سے بھی زیادہ نورانی ہے، اور اس کی تلاوت اس شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے اور اس کی تفسیر اس بال سے بھی زیادہ باریک ہے۔‘‘ حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے یوں فرمایا:
’’ اَلضَّیْفُ أَنْوَرُ مِنَ الطَّسْتِ وَکَلَامُ الضَّیْفِ أَحْلٰى مِنَ العَسَلِ وَقَلْبُہُ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِیعنی میرے