صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سیکھی تھی۔
(فضائل الصحابۃ للامام احمد ،بقية قوله : مروا أبا بكر يصلي بالناس، ج۱، ص۲۰۸)
صدیق اکبر اورنماز تہجد
حضرت سیدنا ابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے استفسار فرمایا: ’’مَتَى تُوتِرُیعنی اے ابوبکر! تم کس وقت وتر ادا کرتے ہو؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’اُوتِرُ مِنْ اَوَّلِ اللَّيْلِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں رات کے اول حصے میں پڑھ لیتا ہوں۔‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے استفسار فرمایا: ’’مَتَى تُوتِرُ یعنی اے عمر! تم کس وقت وتر ادا کرتے ہو؟‘‘انہوں نے عرض کیا:’’آخِرَ اللَّيْلِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں رات کے آخری حصے میں پڑھ لیتاہوں۔‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے ارشاد فرمایا: ’’اَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِابوبکر نے یہ طریقہ احتیاط کی وجہ سے اختیار کیا۔‘‘اور حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے ارشاد فرمایا: ’’اَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ یعنی عمر نے یہ طریقہ قوت کی بناء پر اختیار کیا۔‘‘ (سنن ابی داود، کتاب الصلوۃ، باب الوتر قبل النوم، الحدیث:۱۴۳۴، ج۲، ص۹۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر اورمریضوں کی عیادت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی غم خوار تھے اور قلبی طور پر اس قدر رحم دل اور حساس تھے کہ کسی مسلمان کو بڑی مصیبت تو کجا چھوٹی سی تکلیف میں دیکھنا بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوگوارا نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کئی ایسے مسلمان غلاموں کو اپنی ذاتی رقم ادا کرکے آزاد کروایا جو اپنے آقاکے ہاتھوں ظلم وستم کا نشانہ بنتے تھے۔ اسی طرح بیمار اصحاب کی غم خواری کرتے ہوئے ان کی عیادت کرنا بھی