Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
166 - 691
 ’’اے ابوبکر!  اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے کہ آپ نے تو اپنے بعد میں آنے والوں کو تھکا دیا ہے ۔‘‘  ( تاریخُ الخلفاء، ص۶۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبرکی  خشوع وخضوع والی نماز
نماز میں خشوع وخضوع
حضرت سیدنا مجاہدعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِدے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب نماز میں قیام فرماتے تو خشوع وخضوع کی وجہ سے ایک سیدھی لکڑی کی مانند ہوتے۔ (جمع الجوامع، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۱۶۴، ج۱۱، ص۴۰، السنن الکبری للبیھقی، کتاب الصلاۃ، باب ابواب الخشوع فی الصلاۃ، الحدیث: ۳۵۲۲، ج۲، ص۳۹۸)
یکسوئی کے ساتھ نماز کی ادائیگی
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی خشو ع وخضوع سے نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے، اورعبادت نہایت احسن انداز میں ادا کرنے کے شائق تھے۔چنانچہ،حضرت سیدنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’كَانَ أَبُوْ بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِيْ صَلَاتِه یعنی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نماز کے دوران ادھر ادھر بالکل متوجہ نہیں ہوتے تھے۔‘‘	
			   (فضائل الصحابۃ للامام احمد، بقية قوله : مروا أبا بكر يصلي بالناس، ج۱، ص۲۰۲)
آپ نے نماز کس سے سیکھی؟
اہل مکہ کہا کرتے تھے کہ حضرت سیدنا ابن جریج رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے نماز حضرت سیدنا عطاء بن ابی رباح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سیکھی ہے اور امام عطاء نے حضرت سیدنا عبد اللہ  بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سیکھی ہے ۔ سیدنا عبد اللہ  بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاپنے نانا محترم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے سیکھی۔اور حضرت سیدنا ابوبکر