Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
165 - 691
 المال سے ملنے والے اخراجات سے اتنی رقم کم کروا دی۔‘‘  ( الکامل فی التاریخ ،ج۲،ص۲۷۱)
اس کا مشاہرہ تو اتنا زیادہ اور میرا اتنا کم۔۔۔؟
 	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت کوسُن کر فقط نعرہ دادو تحسین بلند کر کے دل کو خوش کر لینے کے بجائے ہمیں بھی تقویٰ اور قناعت کا درس حاصل کرنا چاہئے۔ بالخصوص ارباب اقتدار و حکومتی افسران، نیز آئمہ مساجد،دینی مدارِس کے مدرِّسین اور مختلف اسلامی شعبہ جات سے وابستہ اسلامی بھائیوں کیلئے اس حکایت میں قناعت و خُود داری اپنانے، حرص و طمع سے خود کو بچانے اوراپنی آخِرت کو بہتر بنانے کیلئے خوب خوب خوب سامان عبرت ہے۔ کاش!ہم سب محض نفس کی تحریک پر مشاہرے کی کمی بیشی یعنی’’ اُس کا مشاہرہ تو اتنا زیادہ اور میرا اِتنا کم‘‘ کہہ کہہ کر اس طرح کے مُعامَلات میں الجھنے کے بجائے قلیل آمدنی پر قناعت کرتے ہوئے نیکیوں میں کثرت کے تمنّائی بن جائیں۔سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تقویٰ و پرہیزگاری اوردنیوی دولت سے بے رغبتی کے متعلق ایک اور حکایت ملاحظہ کیجئے ۔ چُنانچہ،
وقف کی چیزوں کے بارے میں احتیاط
امامِ عالی مقام ، امام عرش مقام،امام الہمام حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی وفات کے وقت اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمایا ’’دیکھو ! یہ اُونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں اور یہ بڑا پیالہ جس میں کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں یہ سب بیت المال سے لیا گیا ہے۔ ہم ان سے اسی وقت تک نفع اٹھاسکتے ہیں جب تک میں مسلمانوں کے امورخِلافت انجام دیتارہوں گا۔ جس وقت میں وفات پا جاؤں تو یہ تمام سامان حضرتِ سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دے دینا ۔ چُنانچہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا انتقال ہو گیا تو اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے یہ تمام چیزیں حسب وصیت واپَس کر دیں ۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے چیزیں واپَس پا کر فرمایا: