حضرتِ صدر الافاضل مولانا مُفتی سید حافظ محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِیاس آیت کے تحت ’’تفسیرِخزائن العرفان‘‘میں لکھتے ہیں: حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ قبائلِ عرب میں سے ہر ہر قبیلے سے جماعتیں سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حضور حاضر ہوتیں اور وہ (لوگ) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دِین کے مسائل سیکھتے اور تَفَقُّہْ یعنی (علم دین کی سمجھ بوجھ) حاصل کرتے اور اپنی قوم کے لیے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری کا حکم دیتے اور نماز،زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم کے لئے انہیں ان کی قوم پرمامور فرماتے۔جب وہ لوگ اپنی قوم پر پہنچتے تو اعلان کر دیتے کہ جو اسلام لائے وہ ہم میں سے ہے اور لوگوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف دِلاتے اور دین کی مخالفت سے ڈراتے یہاں تک کہ لوگ اپنے والدین کو چھوڑ دیتے اور رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں دین کے تمام ضروری عُلوم تعلیم فرما دیتے(خازن)یہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا معجزہ عظیمہ ہے کہ بالکل بے پڑھے لوگوں کو بہت تھوڑی دیر میں دین کے احکام کا عالم اور قوم کا ہادی بنا دیتے تھے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اخراجات سے زائد رقم کم کروادی
حضرتِ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اَہلیہ محترمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو حَلوا کھانے کی خواہش ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’ہمارے پاس اتنی رقم نہیں کہ ہم حلوا خرید سکیں۔‘‘عَرض کی:’’میں اپنے گھریلو اخراجات میں سے چند دنوں میں تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کر کچھ رقم جمع کر لوں گی اُسی سے حَلوا خرید لیں گے۔‘‘فرمایا:’’ٹھیک ہے ایسا کرلینا ۔‘‘چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ محترمہ نے رقم جمع کرنا شروع کی۔کافی دنوں بعد تھوڑی سی رقم جمع ہوگئی، جب انہوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بتایا تاکہ آپ حلوا خرید لیں تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہ رقم لی اور بیت المال میں لوٹا دی اور فرمایا کہ’’ یہ ہمارے اخراجات سے زائد ہے۔ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آئندہ کیلئے بیت