Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
163 - 691
 طرف یہ وحی نہیں بھیجی گئی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تاجروں میں سے ہوجائیں ،کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میں یہ چاروں باتیں جمع تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اُمُورکہ جو بیا ن سے باہر ہیں، اسی لئے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے حضرت سیدناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو مشورہ دیا تھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتجارت چھوڑ دیں، جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمسلمانوں کے اُمُور کے ولی بنے تھے کیونکہ یہ عمل اُمّت کے مسائل کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیت المال سے ضرورت کے مطابق لیتے تھے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسی کو بہتر سمجھا پھر جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کا وقت قریب ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ مال بیت المال کی طرف لوٹا نے کی وصیت فرمائی لیکن ابتداء میں اسے لینا بہتر سمجھا۔ (احیاء العلوم ،کتاب آداب الکسب والمعاش، الباب الاول فی فضل الکسب والحث علیہ، جلد ۲، ص۸۲)
حصول علم دین کے لیے سفر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دورِ حاضر میں دین اسلام کا نظام یعنی مسجد، مدرسہ، جامعہ اور نیکی کی دعوت وغیرہ کے حالات انتہائی نا گفتہ بہ(نا قابل بیان) ہیں۔یقینا ًفرائض علوم کا سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ملت اسلامیہ کا ہر فرد اپنا گھر بار چھوڑ کر دین اسلام کی تعلیمات و احکامات کی نشرو اشاعت کے لئے سفر کرے،کیونکہ اس طرح توتجارت،زراعت اور صنعت وغیرہ میں خلل واقع ہو جائے گا،لیکن بِلاشُبہ یہ تو ممکن ہے کہ ہر علاقہ و شہر سے کچھ نہ کچھ افراد حصول علم دین اوراِس کی ترویج کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں چنانچہ، پارہ ۱۱سورۃ التوبہ آیت۱۲۲ میں ارشاد ہوتا ہے: (وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةًؕ-فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠)ترجمۂ کنزالایمان:اور مسلمانوں سے یہ توہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ اِن کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈرسنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔